تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 83
تاریخ احمدیت۔جلد 25 83 سال 1969ء ایران میں قیام کے دوران کئی ایک مواقع پر غیر از جماعت دوست بھی موجود ہوتے تھے اور ان کے ساتھ بھی عمومی طور پر اسلام کی تبلیغ واشاعت کے متعلق مفید گفتگو ہوتی رہی۔اکثر احباب نے بے ساختہ اس بات کا اظہار کیا کہ احمدیہ جماعت ساری دنیا میں تبلیغ کا فریضہ سرانجام دینے کی وجہ سے نہایت قابل قدر کام کر رہی ہے۔جن احباب سے خصوصی ملاقاتیں ہوئیں ان میں ایک دوست محمد خالق عالم فاروقی صاحب تھے جوڈیز فل (Dezful) میں ایئر فورس میں ملازم تھے۔ایک روز محمد افضل صاحب کے ہاں جماعت احمد یہ ایران کے تمام احباب ( مردوزن اور بچے ) مدعو تھے۔اس تقریب پر لجنہ اماءاللہ کی تنظیم کے متعلق تفصیلی گفتگو ہوئی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی بہنیں ایران میں بہت اچھا کام کر رہی تھیں۔ترکی آپ ۲۰ جون کو تر کی تشریف لے گئے۔انقرہ ائیر پورٹ پر لیفٹیننٹ جنرل اختر حسین ملک صاحب تشریف لائے ہوئے تھے۔صاحبزادہ صاحب کا قیام بھی انہی کے ہاں تھا۔ترکی میں صاحبزادہ صاحب کی یادگار ملاقات نہایت مخلص ترک احمدی اور فاضل و محقق جناب پروفیسر شناسی سبر سے ہوئی۔انہیں صاحبزادہ صاحب سے مل کر بڑی خوشی ہوئی۔وہ بے حد خوش تھے اور جب انہیں معلوم ہوا کہ صاحبزادہ صاحب حضرت مصلح موعود کے لخت جگر ہیں تو اٹھ کر گلے ملے اور زار و قطار رونے لگے اور بار بار کہتے تھے کہ میں کتنا خوش نصیب ہوں کہ مرکز سے صاحبزادہ صاحب مجھے ملنے کے لئے تشریف لائے ہیں۔ان سے تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں۔انہوں نے صاحبزادہ صاحب کی خدمت میں بعض نایاب کتابیں بھی پیش کیں۔یہ ملاقاتیں ترکی کے شہر از میر کے ایک ہوٹل میں۔ہوئیں۔پروفیسر شناسی سبر صاحب کے علاوہ انقرہ میں جن متعدد ترک شخصیات سے رابطہ ہوا ان میں ماجد باسط صاحب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ماجد صاحب ترک حکومت میں ایک اعلیٰ عہدہ پر فائز تھے اور کو پن ہیگن اور ناروے میں سید کمال یوسف صاحب، جناب نور احمد بولستاد صاحب۔Mr) (Bolstad اور سیف الاسلام محمود اریکسن صاحب کے ذریعہ احمدیت سے متعلق خاصی معلومات حاصل کر چکے تھے اور ان کے دل میں سلسلہ احمدیہ کی دینی خدمات کے لئے محبت کا جذبہ موجزن ہو چکا تھا۔انہوں نے صاحبزادہ صاحب کو کھانے پر بلایا اور رات گیارہ بجے تک سوال و جواب کا سلسلہ