تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 84 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 84

تاریخ احمدیت۔جلد 25 84 سال 1969ء جاری رہا اس کے بعد پہلی ہی ملاقات میں محترم صاحبزادہ صاحب کو اس بات کا پتہ چل گیا کہ ماجد صاحب کوتر کی واپسی پر ان کے دوستوں نے احمدیت سے بدظن کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی۔الیاس برنی صاحب اور دیگر معاندین سلسلہ کا لٹریچر بکثرت انہیں مہیا کیا گیا۔چنانچہ محترم صاحبزادہ صاحب سے گفتگو کے دوران وہ ان کتابوں سے پوری پوری مدد لیتے رہے۔طویل گفتگوؤں کا صرف اتنا اثر ہوا کہ وہ کہنے لگے کہ شکوک و شبہات تو دور ہو گئے ہیں اور اعتراض بھی اب کوئی نہیں لیکن جماعت میں شمولیت کے لئے شرح صدر نہیں ہے۔اس کے بعد ان سے ملاقاتوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا اور خاصی لمبی گفتگو کے بعد انہوں نے صاحبزادہ صاحب کی تحریک خاص پر بیعت فارم پُر کر دیا جو دورہ ترکی کا پہلا شیریں پھل تھا۔ماجد صاحب احمدیت کے نور سے منور ہونے کے بعد اگلے روز اپنے ساتھ ترک یونیورسٹی کے پانچ پروفیسر لائے جن میں سے ایک فلسفہ و تاریخ کے استاد اور متعدد کتابوں کے مؤلف تھے۔انہوں نے احمدیت میں گہری دلچسپی لی اور کئی باتوں میں صاحبزادہ صاحب سے اتفاق کیا۔ایک روز جنرل ملک اختر حسین صاحب نے صاحبزادہ صاحب کے اعزاز میں دعوت طعام دی جس میں سینٹو (Cento) کے پاکستانی افسر اور پاکستانی سفارت خانہ کے افسر بھی شامل ہوئے۔علاوہ ازیں آرسی ڈی کے ایک بڑے عہدہ دار ترک افسر نے بھی آپ کو چائے پر مدعو کیا۔آپ نے ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض پیشگوئیوں سے روشناس کرایا اور مرکز احمدیت ربوہ کے تفصیلی حالات بتلائے۔وہ آپ کی گفتگو سے بہت متاثر ہوئے اور ر بوہ آنے کا بھی وعدہ فرمایا۔یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ بارہ سال قبل ۱۹۵۷ء میں جب صاحبزادہ صاحب ایک تبلیغی دورہ پر جانے لگے تو سیدنا حضرت مصلح موعود نے دیگر نہایت اہم اور مفید ہدایات دینے کے علاوہ یہ بھی ارشاد فر مایا کہ ترکوں کا ہم پر حق ہے ان کی طرف خاص توجہ کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس زمانہ کے مامور کے ماننے کی توفیق دے کر ان سے ایک دفعہ پھر ایسی خدمت اسلام لے کہ ان کی زندگیوں میں قرون اولیٰ کی یاد تازہ ہونے لگے۔خلیفہ موعود کے اس ارشاد مبارک نے صاحبزادہ صاحب کے دل میں ایک زبر دست ولولہ ترکی میں احمدیت کے نفوذ کے لئے پیدا کر دیا جس کی جھلک آپ کے دورہ ترکی کے ہر مرحلہ پر نمایاں ہوگئی اور ماجد صاحب کی قبول احمدیت اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھی۔قیام ترکی کے دوران آپ نے استنبول کا تاریخی میوزیم بھی دیکھا جس میں آنحضرت خاتم