تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 80 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 80

تاریخ احمدیت۔جلد 25 80 سال 1969ء ملک محمد اعظم صاحب ( اُس وقت ناظم اطفال ربوہ) رقمطراز ہیں کہ:۔یہ مثال کہیں نظر نہیں آتی کہ بچوں کو انعام کے طور پر پیسے دیئے جائیں تو بچے نہ لیں۔بچوں کو پیسوں سے بڑی الفت ہوتی ہے لیکن اس روز خدمت خلق کا ایسا جذبہ تھا کہ مسافر خوش ہوکر بچوں کو انعام دیتے لیکن بچے پیسے لینے سے انکار کر دیتے کہ ہم پیسوں کی خاطر یہ کام نہیں کر رہے ہیں بلکہ اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کے لئے کر رہے ہیں حالانکہ بچوں کو روکا ہوایا سمجھایا ہوا نہیں تھا کیونکہ یہ تو خیال بھی نہیں تھا کہ کوئی انہیں پیسے بھی دے گا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسافروں کی ہر نوع کی ضرورت پوری کی گئی۔ایک دوست کراچی سے آئے اور لائل پور جانا چاہتے تھے میرے پاس آئے کہ بیوی بیمار ہوگئی ہے لائل پور پہنچنے کا ذریعہ بتا ئیں میں نے فوری طور پر چار بچوں کو ان کا سامان اٹھوایا کہ انہیں بس پر سوار کرا دیا جائے۔بچوں نے آکر بتایا کہ وہ اسٹیشن سے لے کر اڈا تک ہمیں دعائیں دیتے گئے۔اس روز عجیب سماں تھا اور عجیب ہی کیفیت۔کوئی روٹیاں اٹھائے آرہا ہے تو کسی کے ہاتھ میں سالن کی بالٹی۔کہیں سے برف آ رہی ہے۔بچے بالٹیاں اٹھائے گشت کر رہے ہیں۔کہیں معصوم بچوں کو دودھ پلایا جارہا ہے۔کہیں انہیں ہاتھ سے ہلانے والے سیکھے دئے جارہے ہیں۔صبح ساڑھے دس بجے سے لے کر دو پہر ۲ بجے تک مسلسل یہ کام جاری رہا۔جب گاڑیوں سے انداز اچھ ہزار مسافروں میں کھانا اور پانی تقسیم ہو چکا تو دو بچوں کے دو گروپ بنادیئے گئے تا کہ کچھ آرام بھی ہو سکے لیکن مسیح محمدی کی جماعت کے نونہالوں کی روح خدمت بار بار انہیں خدمت کے لئے ابھارتی تھی۔وہ بار بار میرے پاس آکر کہتے کہ ہماری باری کب آئے گی۔ہمیں بھی دوبارہ کام کرنے کا موقع دیں۔جب گاڑیاں روانہ ہوئیں تو مسافر متبسم چہروں کے ساتھ ہاتھوں کو ہلا ہلا کر ہمیں مبارک باد دیتے اور شکریہ ادا کرتے تھے۔یوں محسوس ہوتا تھا کہ حقیقی بھائی ، بھائیوں سے جدا ہورہے ہیں۔سب مسلمان بھائی بھائی ہیں کا عملی نظارہ نظر آرہا تھا۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خدمت اقدس میں جب احمدی نونہالوں کی اس کارنامہ خدمت کی اطلاع پہنچی تو حضور نے رپورٹ پر فرمایا: 81 جزاکم اللہ الحمد للہ سب بچوں کو اللہ تعالیٰ بہترین جزا دے۔