تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 79 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 79

تاریخ احمدیت۔جلد 25 79 سال 1969ء جاپان (جاپانی)، ڈاکٹر بشارت علی صاحب سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کراچی یونیورسٹی (جرمن ) ، احسان زمرانی صاحب اور جناب فکری صاحب (ترکی) ، ڈاکٹر محمد علی وانگ صاحب (چینی)، مسٹر احمد المنصور (سینیگالی)، عبیدالرحمن بھیاں صاحب (بنگالی) ،عبدالہادی صاحب فلسطینی (عربی)۔ان تقاریر کے درمیان مولانا عبد المالک خان صاحب مربی کراچی نے مقام قاب قوسین کے موضوع پر اردو زبان میں تقریر کی۔آخری خطاب مولانا قاضی محمد نذیر صاحب ناظر اصلاح وارشاد کا تھا۔آپ نے اپنی پون گھنٹہ کی جامع تقریر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ اور سیرت طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور خاص طور پر تو حید خالص کے قیام کے لئے حضور علیہ السلام کی بے مثال قربانیوں کا تذکرہ فرمایا اور دیگر انبیاء پر آپ کی بلندشان اور فضیلت کو واضح کیا۔آخر میں چوہدری احمد مختار صاحب امیر جماعت کراچی نے مقررین اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔اہل کراچی نے اس منفرد اور شاندار جلسہ میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔حاضرین کی نشست کا انتظام کرسیوں پر تھا جو بالکل ناکافی ثابت ہوئیں اور سینکڑوں افراد نے کھڑے ہو کر جلسہ کی کارروائی سنی۔جلسہ کا اعلان ریڈیو اور اخبارات کے ذریعہ کیا گیا اور اس کی خبریں پریس نے شائع کیں اور مولانا قاضی محمد نذیر صاحب کی تقریر ریڈیو سے پیش کی گئی۔80 ربوہ کے احمدی نونہالوں کی طرف سے خدمت خلق کا شاندار نمونہ ے جون ۱۹۶۹ء کو ایک حادثہ کے باعث فیصل آباد، چنیوٹ اور سرگودھا سے آنے والی گاڑیاں لالیاں اور ربوہ میں روک لی گئیں۔شدید گرمی میں پیاس اور بھوک کے باعث ہزاروں مسافر جن میں بہت سے بچے اور عورتیں بھی شامل تھیں بڑی تکلیف دہ صورتحال سے دو چار ہو گئے۔اس موقع پر ربوہ کے احمدی بچوں اور نوجوانوں نے خدمت خلق کا مثالی نمونہ دکھاتے ہوئے ایک ہزار سے زائد مسافروں کے لئے ٹھنڈے پانی اور کھانے کا نہایت وسیع پیمانہ پر انتظام کیا۔یہ انتظام فوری طور پر ایسے شاندار طریق پر کیا گیا کہ مسافر دنگ رہ گئے اور انہوں نے نوجوانان احمدیت کے جذ بہ خدمت خلق کی بہت تعریف کی اور اہل ربوہ کو دعائیں دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ اہلِ ربوہ نے تو ہمارے لئے گھر کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔یہ اہم واقعہ احمدی بچوں اور جوانوں کے مثالی کارنامہ کی حیثیت سے بڑا یا دگا ر ہے۔