تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 48 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 48

تاریخ احمدیت۔جلد 25 48 سال 1969ء صاحبزادہ مرز امبارک احمد صاحب کا ایک معلومات افروز انٹرویو ہفت روزہ اخبار ”لاہور کی ۲۴ مارچ ۱۹۶۹ء کی اشاعت میں صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر کا ایک معلومات افروز اور ولولہ انگیز انٹر ویو شائع ہوا۔اس انٹرویو میں آپ نے جماعت احمدیہ کی اس عالمگیر اور مثالی جد و جہد پر تفصیلی روشنی ڈالی جو مجاہدین احمد بیت اعلائے کلمتہ الحق کے لئے کر رہے تھے۔آپ نے بتایا کہ تحریک جدید کا آغاز ۱۹۳۵ء میں ایک مختصر سے کمرہ میں ہوا۔اس کا پہلا بجٹ ستائیس ہزار روپیہ تھا اور اب ترپن لاکھ ہے۔تحریک جدید کے زیر انتظام اس وقت نو کالج ، چار سیرالیون میں ، تین، غانا میں ، ایک یوگنڈا میں اور ایک ماریشس میں۔دو درجن سے زائد ہائی سکول سات زبانوں میں تحریک جدید تراجم قرآن کریم شائع کرا چکی ہے۔کوئی چار صد کے لگ بھگ مساجد تعمیر ہو چکی ہیں۔آزاد مملکت گیمبیا کے گورنر جنرل احمدی ہیں اور بڑے مخلص اور پابند صوم وصلوٰۃ ہیں۔آپ سے دریافت کیا گیا کہ کیا کسی بیرونی ملک میں آپ کا کوئی مبلغ بیعت لے سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں یہ حق یا وظیفہ صرف امام جماعت احمدیہ کا ہے یا اس کا جسے بطورِ خاص یہ عزت تفویض کر دی جائے۔معمول یہ ہے کہ جب کوئی شخص پوری تحقیق کے بعد اسلام قبول کر کے جماعت میں داخل ہونے کی خواہش کرتا ہے تو اس سے بیعت فارم پُر کرا کے مرکز میں بھجوا دیا جاتا ہے اور یہاں سے منظوری چلی جاتی ہے۔کیا گیمبیا کے علاوہ بھی کچھ ملکوں کی وزارتوں یا اعلیٰ سروسز میں آپ کے لوگ ہیں؟ اس کے جواب میں صاحبزادہ صاحب نے بتایا کیوں نہیں؟ مثلا گھانا اور سیرالیون کی وزارتی کونسلوں میں اور اعلی سروسز میں تو ہر جگہ جماعت کا باوقار حصہ ہے اس لئے کہ بیرونی ملکوں میں ہمارے ملک جیسا گھٹیا قسم کا فرقہ وارانہ تعصب نہیں ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں آپ نے بتایا کہ عراق، لبنان ، شام، مصر اور شرق اردن میں جماعت احمدیہ کے دینی مراکز موجود ہیں جن کا اصل کام ہی ہے: اول۔اسلام دشمن طاقتوں کا مقابلہ دوئم مسلمان را مسلمان باز کردن کی مہم۔دلوں اور روحوں سے فرنگی تہذیب کا رنگ وروغن دھونا۔آپ نے ایک سوال کے جواب میں جماعت احمدیہ کے کہا بیر مشن کے متعلق بتایا: ما شاء اللہ بے حد کامیاب ہے۔خود کفیل ہے۔وہاں بہت بڑی جماعت ہے۔جبل الكرمل نامی