تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 371
تاریخ احمدیت۔جلد 25 371 سال 1969ء جیسا کہ ذکر ہو چکا ملک کے متعدد اخبارات نے احمد یہ وفد کی طرف سے پوپ کو ترجمہ قرآن کریم پیش کرنے کی خبر فوٹو کے ساتھ دی۔صوفی محمد اسحاق صاحب ۱۹۶۷ ء میں جب دوسری بار یوگنڈا تشریف لائے تو اس ملک میں صرف ایک احمد یہ سیکنڈری سکول تھا لیکن اس کے بعد تین اور پرائمری سکولوں کا اضافہ ہوا۔یہ نئے سکول سیٹا ، بوسو اور پنجارے میں قائم ہوئے اور کامیابی سے چلنے لگے۔سیٹا سکول کھولنے کے لئے ڈاکٹر لال دین احمد صاحب نے تقریباً بارہ سوشلنگ کا عطیہ دیا۔بوسو سکول کے ساتھ چارا پکڑ کے قریب زمین بھی تھی جو احمدی دوستوں نے مشن کو ہبہ کر دی۔سکول کے ساتھ جماعت نے ہمت کر کے اسی سال خدا کا ایک گھر بھی تعمیر کر لیا۔اسی طرح اس علاقہ میں جماعت کا یہ تعلیمی مرکز مستقل بنیادوں پر قائم ہو گیا۔چجارے سکول مولوی جلال الدین صاحب قمر نے قائم کیا تھا اس کی ابتداء دینی مدرسہ کے طور پر ہوئی لیکن بعد میں اُسے پرائمری سکول میں تبدیل کر دیا گیا تا مسلم طلباء دینی تعلیم کے ساتھ دنیوی تعلیم سے بھی بہرہ ور ہوسکیں۔اس سکول نے اتنی تیزی سے ترقی کی کہ ۱۹۶۹ء میں اس کے لئے ایک نہایت ہی خوشنما اور صحت افزاء بلند جگہ پر چارا یکڑ کے قریب زمین خریدی گئی جس پر اسی سال نیم پختہ عمارت تعمیر کر کے سکول کو منتقل کر دیا گیا۔ان تینوں سکولوں کی خصوصیت یہ تھی کہ ان کے ہیڈ ماسٹر احمدی اساتذہ تھے اور جماعت احمد یہ یوگنڈا کی دینی تربیتی کلاس کے تربیت یافتہ تھے۔مسا کا کا ضلع یوگنڈا کے صدر مقام کمپالا کے جنوبی سمت میں واقع ہے۔جماعت احمدیہ کا مشن مدت سے اس علاقہ میں تبلیغی خدمات بجالا رہا ہے۔اپریل ۱۹۶۹ء میں مولوی محمد شفیق صاحب قیصر مرکز سے یہاں تشریف لائے اور مولوی جلال الدین صاحب قمر سے چارج لیا۔آپ نے اس سال مختلف مذہبی شخصیات مثلاً شیخ محمود صاحب آف مسانو و، شیخ آف چیکونگو، شیخ العلماء، مفتی یوگنڈا اور دیگر بیسیوں مشائخ سے ملاقات کی اور پر حکمت انداز میں احمدیت کا تعارف کروایا۔مفتی یوگنڈا نے دوران گفتگو فر مایا آپ مجاہدینِ اسلام ہیں اور ہر ملک میں آپ لوگ اسلام کی تبلیغ کر رہے ہیں اور افریقہ اور یورپ میں بھی آپ کی تبلیغی کوششوں سے لوگ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں آپ کی تبلیغی مساعی سے واقف ہوں اور اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور آپ کے شائع کردہ لٹریچر سے استفادہ کرتا ہوں۔جناب قیصر صاحب نے یہاں پہنچتے ہی عیسائیت کے خلاف بھر پور علمی جہاد کا آغاز کر دیا چنانچہ