تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 372
تاریخ احمدیت۔جلد 25 372 سال 1969ء اولین مرحله پر تردید الوہیت مسیح کے موضوع پر ایک پمفلٹ خاصی تعداد میں مسلمانوں اور عیسائیوں میں تقسیم کیا جس پر مسلمان نوجوانوں نے اظہار مسرت کیا اور انہیں مقامی چرچ میں جا کر وہاں کے انچارج سے گفتگو کرنے کو کہا۔چنانچہ تردید الوہیت کے موضوع پر آپ سے دلچسپ تبادلہ خیالات ہوا۔ایک عیسائی نوجوان مسایو نامی نے اسی موضوع پر گفتگو کے لئے وقت مقرر کیا چنانچہ حسب پروگرام آپ بعض افریقن احمدیوں کے ساتھ وہاں پہنچ گئے مگر مختصرسی ابتدائی گفتگو کر کے مزید بات چیت کرنے سے انہوں نے معذرت کر لی۔ان دنوں مولوی جلال الدین صاحب قمر لو گنڈ ا ترجمہ قرآن پر نظر ثانی کا کام کر رہے تھے۔جماعت کی خدمت قرآن کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے چنانچہ یوگنڈ ا زبان کے مشہور روزنامہ طائفہ امپیا (Taifa Empya) میں ایک شیخ عبد القادر بگو نے جماعت کی اس خدمت کو خوب سراہا اور لکھا۔مسلمانوں کے دیگر فرقوں کے علاوہ احمد یہ جماعت کے لوگ بھی یوگنڈا میں رہتے ہیں احمدی لوگ حقیقی معنوں میں مسلمان ہیں یہ احمدی جماعت ہی تھی جس نے سب سے پہلے اس ملک کی اہم زبان لو گنڈا میں قرآن مجید کا ترجمہ شائع کیا۔اور نہ صرف لو گنڈا میں ہی بلکہ دنیا کی بہت سی زبانوں میں قرآن پاک کا ترجمہ شائع کر چکی ہے۔اب یہ جماعت تقریباً دنیا کے ہر خطہ میں پھیل چکی ہے اور انہوں نے ہر جگہ اپنی مساجد بنائی ہیں“۔کثیر الاشاعت انگریزی روز نامہ یوگنڈا آرگس نے اپنی اشاعت مورخہ ۳ ستمبر ۱۹۶۹ء میں مولوی جلال الدین صاحب قمر اور ذکر یا کزیٹو صاحب کا لوگنڈا ترجمہ قرآن کے متعلق با تصویر انٹرویو شائع کیا جس میں جماعت کی تراجم قرآن کے سلسلہ میں مساعی کا عمدہ رنگ میں ذکر کیا۔138