تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 352 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 352

تاریخ احمدیت۔جلد 25 352 سال 1969ء صاحب نسیم کا درج ذیل ایک اہم انٹرویو دیا، جو مسٹر کلاڈٹ ارل (Claudette Earle) نے لیا تھا جس کا ترجمہ درج ذیل ہے۔پاکستانی نژاد میر غلام احمد نیم صاحب جو احمد یہ مسلم مشن کے سربراہ ہیں۔چند ماہ قبل اس ملک میں آئے ہیں۔آپ درمیانی عمر کے پاکستانی یونیورسٹی کے ایک جوشیلے گریجویٹ ہیں۔جنہوں نے حضرت مرزا غلام احمد کی احمد یہ تحریک کے تحت اشاعت اسلام کے لئے زندگی وقف کی ہے۔یہ ایک تبلیغی جماعت ہے جو دنیا بھر میں اسلامی عقائد و تعلیم کو پھیلانے کے لئے منادوں کو تیار کرتی ہے۔گذشتہ ہفتہ ملاقات میں میر غلام احمد نسیم نے کہا کہ میں اس ملک میں اس جماعت کا نمائندہ ہوں۔میرا فرض یہ ہے کہ جہاں بھی جاؤں اسلام کی دعوت دوں۔مسلمانوں کا یہ بنیادی عقیدہ ہے کہ دنیا کی نجات اسلام میں ہے۔اسلامی عقائد کے مطابق انسانوں میں رنگ قوم و نسل قبیلہ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کی نظر میں سب برابر ہیں۔اسلام مساوات سکھاتا ہے اور اس ذریعہ سے ہی دنیا میں امن قائم ہوسکتا ہے یا کیا جا سکتا ہے۔یہ ان کی سنجیدہ رائے تھی۔مولانا نے بتایا کہ وہ بچپن سے ہی مشنری بننا چاہتے تھے۔اور وہ ایک مشنری ہیں اور مجھے یہ کام بہت پسند ہے۔آپ کے علاقے کے نوجوان جو مشنری بننا چاہتے ہیں وہ میٹرک کے بعد مذہبی ٹریننگ شروع کر دیتے ہیں۔مولا نانسیم نے بتایا۔میں نے سکول کی مروجہ تعلیم کے بعد ایک مسلم تبلیغی ادارے میں چارسال تعلیم حاصل کی۔جہاں انہوں نے اسلامی لٹریچر قرآن کریم ، حدیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم ، تاریخ اسلام، فلسفہ اور اسلام منطق کی بھر پور مکمل تعلیم حاصل کی۔کالج کی تعلیم کے بعد انہوں نے ایک ماہ پاکستانی یو نیورسٹی سے عربی زبان میں ایم اے کی امتیازی سند حاصل کی۔ان کی اہلیہ محترمہ بی اے کے ساتھ ٹیچنگ ڈپلومہ رکھتی ہیں جو تین بچوں سمیت پاکستان میں رہائش پذیر ہیں۔دوران سال وہ آپ کے ساتھ رہائش کے لئے ( گی آنا ) یہاں آئیں گی۔فی الحال مولانا اکیلے ہی ہیں۔مولا ناسیم پانچ زبانیں جانتے ہیں اور اردو، عربی، پنجابی، فارسی اور انگریزی میں گفتگو کر سکتے