تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 328
تاریخ احمدیت۔جلد 25 328 سال 1969ء مضمون دیا۔ہم آپ کے بہت ممنون ہیں آپ نے غیر جانبدارانہ رنگ میں اسلام کے حقائق بیان کئے ہیں۔آپ کی بحث باریک اور لطیف تھی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے بہت اچھی طرح مذہب کے علوم حاصل کئے ہیں۔چینی لوگوں کو اب تک اسلام سے واقفیت نہیں۔وجہ یہ ہے کہ چینی زبان میں اسلام کی تبلیغ نہیں ہوئی۔اب آپ سنگاپور میں اسلام کی اشاعت کے لئے آگئے ہیں۔یہ لازمی بات ہے کہ اسلام ان ممالک میں چینیوں میں پھیل جائے اور چینی لوگ بھی اس سے برکات حاصل کریں۔مولوی محمد عثمان صاحب کے ذریعہ چینیوں ، عیسائیوں، ہندوؤں اور سکھوں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام نہایت مؤثر رنگ میں پہنچا اور سنگا پور کے مسلمانوں کو آپ سے بہت تقویت پہنچی۔چینی مسلمانوں کے ایک راہنما ابراہیم ما صاحب نے ایک دفعہ آپ کو لکھا۔میں نے جماعت احمدیہ کے لٹریچر سے بہت فائدہ اٹھایا اور بہت سے علوم حاصل کئے۔ایک پاکستانی ایسوسی ایشن کی جنرل سیکرٹری غیروں تک اسلام کی آواز پہنچانے کے لئے ہمیشہ سلسلہ کے لٹریچر سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ایک چینی مسلمان نے آپ سے کہا کہ وہ سلسلہ کی کتاب چھاپ کر لوگوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں جو منافع ہوگا وہ جماعت کو دیں گے مگر کتاب پر جماعت کا نام نہ ہو ورنہ اشاعت کم ہوگی آپ نے جواب دیا ہم حق پھیلانا چاہتے ہیں ہمیں پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔96 سوئٹزرلینڈ یکم اگست ۱۹۶۹ء کو سوئٹزرلینڈ نے اپنا قومی دن پوری روائتی شان سے منایا۔اسی روز ملک کے چوٹی کے ایک اخبار ٹاگس انسٹا ئیگر (Tages Anzeiger) نے مسجد محمود کے بارہ میں ایلزی سٹرائف کا ایک مضمون شائع کیا۔مضمون کے آغاز میں مسجد محمود میں خطبہ عید کی ایک تصویر دیتے ہوئے لکھا مشتاق احمد صاحب باجوہ بحیثیت امام احترام کے مقام پر مسلمانوں سے خطاب کر رہے ہیں۔مضمون کا عنوان تھا زیورک میں اسلام۔امام سے ایک ملاقات“۔مضمون نگار نے شروع میں مسجد محمود کی دلکش عمارت کا نہایت پر کیف انداز میں نقشہ کھینچتے اور اسے قدیم فنونِ لطیفہ اورفن تعمیر کا ایک عمدہ نمونہ قرار دیتے ہوئے لکھا:۔کئی سومسلمانوں کے لئے زیورک کی یہ مسجد ایک بھروسہ کے قابل مرکز کی حیثیت رکھتی ہے گویا