تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 329 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 329

تاریخ احمدیت۔جلد 25 329 سال 1969ء وہ ان کے لئے اپنا دینی وطن ہے۔اس مسجد سے تعلق رکھنے والے بعض ممالک بیرون سے ہیں جو مختلف قسم کے کاروبار میں لگے ہوئے یا تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ان میں سے بعض کے اہل وعیال بھی یہاں ہیں اور پھر غیر ممالک سے آئے ہوئے محنت کش اور مذہبی جذ بہ رکھنے والے سیاح جو آتے رہتے ہیں۔اسی طرح مشرق قریب ، مشرق بعید، افریقہ اور بلقانی ممالک کے مسلمان اور خود سوئٹزرلینڈ کے سوئس مسلمان۔یہ مختلف ممالک کے مسلمان سنتی ، شیعہ، اسمعیلی وغیرہ بھی آتے ہیں۔یہ مسجد چھ سال قبل اسلام کے ایک تبلیغ کرنے والے سلسلہ کے زیر ہدایت تعمیر کی گئی جس کا نام سلسلہ احمدیہ ہے اور جو اپنے اراکین سے اس مستعد خدمت کی بجا آوری کا مطالبہ کرتا ہے۔یہ جماعت ان مذہبی عملی افراد پر مشتمل ہے جو اپنے مقصود کے حصول کے لئے مساعی ہیں یہ جماعت اسلام کو صلح و امن سے پھیلانا چاہتی ہے اور اس کے عقیدہ کے مطابق اسلام کے لئے تلوار کا استعمال صرف اس صورت میں جائز ہے۔جب اس کے دفاع کے لئے ضروری ہو۔اس سلسلہ کی بنیاد حضرت مرزا غلام احمد (علیہ السلام) نے ۱۸۸۹ء میں قادیان (ہندوستان ) میں رکھی۔بانی سلسلہ ٹھیک چالیس سال کی عمر کے تھے جب خدائی آواز نے انہیں ارشاد فرمایا کہ وہ مسیح موعود ہیں اور وہ دنیا کو خدا کی طرف بلا لیں۔سلسلہ احمد یہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں اور گروہوں میں وحدت پیدا کرنے کے لیئے مساعی ہے۔امام مشتاق احمد باجوہ یہاں کی جماعت کے قائد اور خلیفہ اسیح الثانی کے نام پر تعمیر شدہ مسجد کے امام ہیں۔امامت یعنی کسی جماعت کی قیادت ایک بلند عزت والا مقام ہے اور جماعت کی خاص شخصیتوں کو ہی یہ حاصل ہو سکتا ہے۔مشتاق احمد باجوہ پاکستان میں جوان ہوئے۔وکالت کا امتحان پاس کیا اور پھر برضاء ورغبت دینی تحریک کی تعمیل میں اپنی زندگی وقف کر دی۔اسلامی تاریخ اور اسلامی دینیات کی تعلیم حاصل کی۔اور کئی سال جماعت احمدیہ کی دار القضاء میں قاضی کی حیثیت سے کام کیا۔زیورک کی مسجد کے سفید بالوں والے امام کے وقار انسانی تپاک و دلسوزی و خوش طبعی کی تاثیرات کو ملنے والا محسوس کر لیتا ہے۔سوئس ملاقاتی انہیں روانی سے جرمن زبان کو بولتے سن کر متعجب ہوتا ہے اور اسے اس اعلیٰ تعلیم یافتہ مضبوط عقاید والے انسان کے جذبہ رواداری کا احتراما اقرار کرنا پڑتا ہے۔قرآن کی سورۃ ۱۰۹ کی آخری آیت میں غیر مسلموں اور مختلف عقائد رکھنے والوں کے بارہ میں ارشاد ہے۔تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین۔کیا اسلام کا یہ فراخدلانہ رویہ اُس خبطی «مسیحی کو جو گویا اپنے اونچے تخت سے غیر مذاہب کو اور خصوصاً اہم عالمگیر مذاہب کو بھی حقارت کی نظر -