تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 21
تاریخ احمدیت۔جلد 25 21 سال 1969ء حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہانپوری کا خطبہ جمعہ میں ذکر خیر امسیح اس المناک قومی سانحہ پر امام ہمام حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۱۰ جنوری ۱۹۶۹ء کو ایک مفصل خطبہ ارشاد فرمایا جس میں حضرت حافظ صاحب کو جماعت کا ایک سردار قرار دیتے ہوئے بتایا: آپ ایک بے نفس خدمت کرنے والے بزرگ تھے جنہوں نے بیماری کی حالت میں بھی بظاہر ایک مختصر سی دنیا میں جو ان کے ایک کمرے پر مشتمل تھی تبلیغ اور تربیت کا ایک وسیع میدان پیدا کر دیا تھا۔آخر وقت تک آپ کا ذہن بالکل صاف اور حافظہ پوری طرح کام کرنے والا رہا اور آپ اس قدر تبلیغ کرنے والے اور اس رنگ میں تربیت کرنے والے بزرگ تھے کہ ہماری جماعت میں کم ہی اس قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔حضرت حافظ مختار احمد صاحب کی وفات پر میں نے بہت دعا کی کہ اے میرے رب ! غلبہ اسلام کی جو مہم تو نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے ذریعہ جاری کی ہے اس کی سرحدوں میں وسعت پیدا ہو رہی ہے۔ہمارے کام بڑھ رہے ہیں اور ہماری ضرورتیں زیادہ ہو رہی ہیں۔ہمیں حضرت حافظ صاحب جیسے ایک نہیں، سینکڑوں نہیں ہزاروں فدائی اور اسلام کے جاشار چاہئیں۔تو اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا کر دے کہ جہاں جہاں اور جس قدر اسلام کی ضرورت تقاضا کرے تیرے فضل سے اسلام کو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فدائی ملتے رہیں۔“ ازاں بعد حضور نے جماعت احمدیہ کے تمام مربیوں کو قرآنی آیات کی روشنی میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ اس طرف متوجہ فرمایا: اللہ کی نگاہ میں صحیح مربی بننے کے لئے دو بنیادی چیزوں کی ضرورت ہے۔ایک نور فراست اور دوسرا گداز دل اپنا دل خدا کے حضور ہر وقت گداز رکھو۔تمہاری روح اس کے خوف سے ، اس کی عظمت اور جلال کی خشیت سے پانی ہو کر اور پکھل کر اس کے حضور جھک جائے اور اپنی تمام عاجزی کے ساتھ انتہائی انکساری کے ساتھ تم اپنے بھائیوں کے سامنے ان کی ہمدردی اور غمخواری میں جھکے رہو۔تمہارانفس 66