تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 22
تاریخ احمدیت۔جلد 25 22 سال 1969ء بیچ میں سے غائب ہو جائے یا تم ہمیں اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے خادم نظر آؤ یا تم اسے اپنے خادم نظر آؤ 40 عالی مقام اور شمائل واخلاق صاحبزادہ (حضرت) مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ نے آپ کے وصال پر تحریر فرمایا:۔حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہانپوری کی سیرت کا ایک نمایاں پہلو آپ کا شوق تبلیغ تھا تبلیغ آپ کا اوڑھنا بچھونا اور کھانا پینا ہو چکی تھی اور واقعہ نہ کہ محاورۃ آپ تبلیغ سے قوت پاتے تھے۔ایک مرتبہ مجھے حضرت حافظ صاحب کی خدمت میں حاضر ہونے کی سعادت نصیب ہوئی تو ایک دوست سے پہلے روز کے ایک واقعہ کے متعلق استفسار فرمارہے تھے۔چنانچہ میرے حاضر ہونے پر مجھے بھی اس گفتگو میں شامل فرمالیا۔واقعہ یہ تھا کہ ایک روز پہلے یہی دوست جن سے حضرت حافظ صاحب کی گفتگو ہورہی تھی ایک ہمارے ضلع جھنگ کے بڑے زمیندار کو حضرت حافظ صاحب کی خدمت میں ملاقات کے لئے لائے تھے۔جب پہنچے تو حضرت حافظ صاحب انتہائی ضعف کے نتیجہ میں لب ہلانے میں بھی دقت محسوس کرتے تھے۔لیکن جب معلوم ہوا کہ ان کو لانے کا مقصد تبلیغ ہے تو رفتہ رفتہ کوشش کر کے بعض مسائل پر کچھ کہنا شروع کیا۔جوں جوں وقت گذرتا گیا حضرت حافظ صاحب کی توانائی بڑھتی گئی۔یہاں تک کہ خدا کے فضل سے اٹھ کر بیٹھ گئے اور مختلف کتا بیں نکلوا کر اصل حوالہ جات بھی دکھانا شروع کئے اور تقریباً ڈیڑھ دو گھنٹے تک ان سے ہرمسئلہ پر سیر حاصل بحث کی۔اس گفتگو کے بعد جب وہ دوست باہر تشریف لے جا رہے تھے تو دروازہ میں (اس نے ) اونچی آواز میں کہا کہ بلا بدھی ہوئی اے“ جسے حضرت حافظ صاحب نے بھی سن لیا۔چنانچہ میرے پہنچنے پر حضرت حافظ صاحب اسی بارہ میں استفسار فرما رہے تھے کہ اس نے مجھے بلا کیوں کہا۔میں نے تو ایسی بات نہیں کی۔نیز فرمایا کہ 'بدھی“ کا مطلب مجھے سمجھ نہیں آیا۔چنانچہ اس پر خاکسار نے عرض