تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 316
تاریخ احمدیت۔جلد 25 316 سال 1969ء ایک سوشل چرچ میں اسلام پر تقریر کی جس سے سامعین بہت متاثر ہوئے۔آپ ہر اتوار جیل خانہ کے قیدیوں کو قرآن مجید سکھاتے رہے اور بکو با بندرگاہ پر تبلیغ کا سلسلہ با قاعدہ جاری رکھا اور پانچ بار قریبی علاقوں میں تبلیغی دورے کئے۔جن افراد تک آپ نے پیغام حق پہنچایا ان میں مذہبی زعماء، اساتذہ، طلباء اور سرکاری افسران شامل تھے۔نیز ایک پادری سے آپ نے خاص طور پر تبادلہ خیالات کیا۔ے جولائی ۱۹۶۹ء کو تنزانیہ کی آزادی کا دن تھا۔جماعت احمد یہ تنزانیہ نے اس قومی جشن منانے میں بھر پور حصہ لیا۔ٹہو را میں مولوی عبدالرشید صاحب رازی اور مولوی عبدالباسط صاحب نے ایک شاندار احمد یہ بک سٹال لگایا جو اپنی انفرادیت اور افادیت کے اعتبار سے بہت کامیاب رہا۔ہزاروں افراد تین روز تک اسے بڑے شوق سے دیکھتے اور سراہتے رہے۔زائرین کی آمد اور ان کے ساتھ تبلیغی گفتگو کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا۔موروگورو میں چوہدری عنایت اللہ صاحب احمدی نے تبلیغی لٹریچر کی ایک خصوصی نمائش کا اہتمام کیا اور اُسے دیدہ زیب بورڈوں، کتبات اور بینرز سے سجایا۔ایک نقشہ کے ذریعہ دنیا بھر میں جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی کو واضح کیا گیا۔یہ نمائش بھی بہت کامیاب اور مفید رہی۔ہزاروں زائرین جن میں افریقن کے علاوہ یوروپین، عرب، ہندو، سکھ، آغا خانی، ہندوستانی اور پاکستانی دوست سٹال دیکھنے کیلئے تشریف لائے اور گہری دلچپسی کا اظہار کیا۔سٹال کو کامیاب بنانے میں ڈاکٹر طفیل احمد صاحب ڈار اور چوہدری افتخار احمد صاحب ایاز اور ان کی اہلیہ صاحبہ 83 نے نمایاں حصہ لیا۔اس سال کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت خلیفہ المسح الثالث کی قبولیت دعا کا ایک عظیم الشان نشان اس سرزمین میں ظاہر ہوا۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے ایک عرب نوجوان عبداللہ سالم سيف صاحب اُن دنوں ٹانگا شہر میں رہائش پذیر تھے فرقہ اباضیہ (سلطنت عمان کا سرکاری مذہب اباضیہ ہے۔اس فرقہ کے نزدیک حضرت ابو بکر اور حضرت عمر خلیفہ راشد تھے مگر حضرت عثمان اور حضرت علی واجب القتل۔) سے تعلق رکھتے تھے اور جماعت احمدیہ کی دینی خدمات کے مداح تھے۔انہوں نے مولوی محمد منور صاحب مبلغ انچارج ٹانگانیکا مشن اور مقامی مبلغ شیخ ابو طالب صاحب عیدی ساندھی صاحب کو اپنے ہاں چائے پر مدعو کیا اور بتایا کہ وہ پندرہ سال سے بیمار ہیں۔ہر دو تین روز کے بعد شدید بخار ہو جاتا ہے۔علاج سے وقتی طور پر افاقہ ہوتا ہے لیکن مرض پھر عود کر آتا ہے۔ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔شدید نقاہت لاحق ہو جاتی ہے۔سارے طریقہ ہائے علاج کو آزما لیا ہے مگر