تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 299
تاریخ احمدیت۔جلد 25 299 سال 1969ء نفرت اور دوری کے۔محبت، محبت پیدا کرتی ہے اور نفرت سے بعد اور دوری پیدا ہوتی ہے۔اسلام نے ی تعلیم دی ہے کہ حکمت، دانائی اور عقلمندی کی بات مومن کی گمشدہ متاع ہے۔جہاں بھی اس کو پائے حاصل کرلے۔اگر ایک سچا مسلمان ایسا نہیں کرے گا تو وہ چھپڑ جائے گا۔مقدس بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنی جماعت کو اس بات کی خصوصیت کے ساتھ تلقین کی۔مگر افسوس کہ اس وقت کی دوسری دنیا اس مفید بات کو اپنانے کیلئے تیار نہیں۔جماعت احمد یہ اپنے مقدس بافی سلسلہ احمدیہ کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے ہر مذہبی پیشوا کی عزت کرتی ہے۔قرآن کریم میں جتنے انبیاء کا ذکر ہے۔ان کے علاوہ شری کرشن جی مہاراج اور شری رام چندر جی کو بھی ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے نیک بندے اور بزرگ یقین کرتی ہے۔اسی عقیدہ کے مطابق ہی کسی کی محبت حاصل کی جاسکتی ہے۔جماعت احمد یہ مذہبی جبر کی قائل نہیں۔اس لئے کہ طاقت اور زور سے زبان تو بند کی جاسکتی ہے لیکن محبت پیدا نہیں کی جاسکتی۔جماعت احمد یہ باہمی محبت والفت پیدا کرنے کی قائل ہے۔لائبریری مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ کا افتتاح ۲۹ اکتوبر ۱۹۶۹ء کو سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے بابرکت ہاتھوں سے مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی لائبریری کا افتتاح عمل میں آیا۔لائبریری میں اردو، عربی ، فارسی اور انگریزی کی قریباً ایک ہزار کتب جمع ہو چکی تھیں اور منیر الحق صاحب شاہد ایم اے نے ان کو کمال محنت و جانفشانی سے ترتیب دیا تھا۔حضور نے ارشاد فرمایا کہ لائبریری میں الفضل“ کے مکمل فائل ہونے چاہئیں۔معاینہ کے بعد حضور نے پروفیسر رفیق احمد صاحب ثاقب معتمد مرکزیہ کی درخواست پر اپنی پسند کی ایک کتاب اپنے دستخط مبارک سے جاری کروا کے لائبریری کا باضابطہ افتتاح کیا اور اجتماعی دعا کرائی۔مجلس خدام الاحمد ی ربوہ کے زیر اہتمام وقار عمل 54 ۷نومبر ۱۹۶۹ء بروز جمعہ مجلس خدام الاحمدیہ ربوہ کے زیر اہتمام وسیع پیمانہ پر وقار عمل منایا گیا۔یہ وقار عمل ریلوے سٹیشن اور لنگر خانہ نمبر کے درمیانی حصہ میں شمال مغربی جانب تقریباً تین فرلانگ کے فاصلہ تک مختلف جگہوں پر منایا گیا۔کم و بیش چھ صد خدام واطفال نے بڑے جوش اور ذوق وشوق سے اس میں حصہ لیا۔اس وقار عمل کو یہ خصوصیت حاصل تھی کہ چوہدری حمید اللہ صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ اپنے مرکزی عہدیداران کے ساتھ اس وقار عمل میں شامل ہوئے۔یہ وقار عمل تقریباً