تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 298
تاریخ احمدیت۔جلد 25 298 یہ مبارک پیغام مولوی بشیر احمد صاحب مبلغ دہلی نے پڑھ کر سنایا۔سال 1969ء خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ کانفرنس نہایت درجہ کامیاب رہی اور اس میں قادیان، بریلی، شاہجہانپور، لکھنو ، مودہا، مسکرا، پنواڑی، کونچ ، صالح نگر ، مکبر یا، فتح پور، امروہہ، دہلی، کلکتہ اور میرٹھ سے کثیر تعداد میں احمدی احباب تشریف لائے۔سامعین کی تعداد ڈیڑھ پونے دو ہزار ہوگی جن میں اکثریت غیر مسلم معززین کی تھی۔فاضل مقررین میں صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب سب سے ممتاز تھے۔آپ کے علاوہ مولوی بشیر احمد صاحب فاضل، مولوی بشیر احمد صاحب خادم ، مولوی غلام نبی صاحب فاضل یاد گیر نے خطاب کیا۔اس موقع پر درج ذیل غیر مسلم معززین نے بھی فاضلانہ لیکچر دیئے۔جناب کملا کانت ترپاٹھی۔شری بر همانند جی نمبر پارلیمنٹ۔شری رام گوپال گپتا صدر ضلع پریشد۔پروفیسر شری لکشمی نرائن آنند جی۔شری سر بندرت باجپئی صاحب ، مسٹر لال جی۔آنریبل سوامی پرشاد سنگھ جی وزیر قانون یوپی گورنمنٹ۔(وزیر قانون صاحب نے کانفرنس کے اجلاس کی صدارت کی اور اس اعزاز کے لئے جماعت احمدیہ کا دلی شکریہ ادا کیا)۔کانفرنس کے آغاز میں شری موہن لال صاحب ایم ایل اے راٹھ نے صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے آپ کا شکریہ ادا کریں۔ہم آپ کے بڑے احسان مند ہیں اور بار بار آپ کا شکر یہ ادا کرتے ہیں۔آپ حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے پوتے ہیں جو پنجاب پرانت کی ایک بستی قادیان میں پیدا ہوئے۔آپ نے خدائی حکم کے مطابق بچی پر ارتھنا، الہام اور روحانی تعلیم کے ذریعہ دیش داسیوں کو خواہ وہ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی کسی بھی مذہب کے ہوں۔جیون کے مقاصد سمجھائے اور انہیں نیک مقاصد کو پورا کرنے کے لئے احمد یہ جماعت کی استھاپنا کی۔ہمارے معزز مہمان، صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب بھی اسی مشن کو پورا کرنے میں اپنا تن من دھن لگائے ہوئے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک کو اس قسم کی روحانی تعلیم کی بے حد ضرورت ہے۔ہمیں امید ہے کہ خدا آپ کو اپنے کام میں کامیابی دے گا اور دنیا سے نفرت اور مذہبی جھگڑے ختم ہو کر انسانی ہمدردی پیدا ہو جائے گی۔صاحبزادہ صاحب نے سپاسنامہ کے جواب میں فرمایا کہ اختلاف رنگ ویو بھی قدرت کا ایک حسن اور اس کی جلوہ گری ہے۔مگر اس اختلاف کو محبت والفت کا ذریعہ بنانا زیادہ اچھا ہے۔بمقابلہ