تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 300
تاریخ احمدیت۔جلد 25 300 سال 1969ء اڑھائی گھنٹہ تک جاری رہا۔مختلف جگہوں پر شکستہ سڑکوں کی مرمت کی گئی۔گڑھوں کو پر کیا گیا اور پانی کے نکاس کے لیے نالیاں کھودی گئیں۔جملہ خدام واطفال نے بڑی دلچسپی سے اس میں حصہ لیا۔دعا کے ساتھ یہ وقار عمل اختتام پذیر ہوا۔مجلس ارشاد مرکزیہ کے اجلاسات امارچ ۱۹۲۶ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے مسجد مبارک ربوہ میں نماز مغرب کے بعد علمی تقاریر کا ایک نہایت ہی مبارک سلسلہ شروع فرمایا تھا۔اس سال بھی علمی تقاریر کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ذیل میں ان اجلاسات کی مختصر کاروائی تحریر ہے۔(۱) ۸ نومبر ۱۹۶۹ء کو بعد نماز مغرب مسجد مبارک میں مجلس ارشاد مرکز یہ کا اجلاس سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی زیر صدارت منعقد ہوا۔تلاوت قرآن اور نظم کے بعد چوہدری ظہور احمد باجوہ صاحب، مولوی دوست محمد شاہد صاحب اور مولانا ابو العطاء صاحب نے علی الترتیب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام انی احافظ كل من في الدار ، حضرت عمر بن عبدالعزیز اور تصوف اور اسکی تعریف کے موضوعات پر بہت ٹھوس اور پر مغز مقالہ جات پڑھے۔آخر میں حضور نے احباب سے خطاب کرتے ہوئے انہیں اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ اسلام کی اصل اور بنیادی حقیقت یہ ہے کہ اللہ ایک ہے اور یہ کہ جسے اس کا قرب حاصل کرنا ہو وہ صفات الہیہ کا مظہر بنے کی کوشش کرے۔ہر علم جو قرآن مجید میں بیان ہوا ہے اس کا خلاصہ یہی ہے کہ فلاں فلاں علم سے تعلق رکھنے والی فلاں فلاں صفات ہیں ان کے مظہر بن جاؤ تو یہ علوم تمہیں حاصل ہو جائیں گے۔اور جب اس رنگ میں تم علم حاصل کرو گے تو اس کے نتیجہ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا۔تصوف کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا اسلام نے جو تصوف پیش کیا ہے وہ بھی اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنے۔جو اصل اور حقیقی صوفی تھے وہ یہی کہتے تھے کہ اصل تصوف کی بنیاد تخلقوا باخلاق الله ہی ہے۔صوفیاء نے جو حقیقت بیان کی ہے وہ مختلف الفاظ میں یہی تھی کہ اللہ کا رنگ اختیار کرو اور اللہ کی صفات کا مظہر بنو۔حضور نے فرمایا نئی نسل کو اسی رنگ میں رنگین کرنا ضروری ہے کیونکہ زندگی کا مزا تب ہی ہے کہ اللہ سے زندہ تعلق ہو اور زندہ تعلق خدا سے اس کا ہوتا ہے جس نے صفات الہیہ کا رنگ اپنی زندگی پر چڑھایا ہوا ہو۔