تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 292
تاریخ احمدیت۔جلد 25۔292 سال 1969ء اس تلخ حقیقت کے اسباب و عوامل کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد آپ نے فرمایا کہ جہاں تک آپ کا تعلق ہے جو یہاں میرے سامنے اس ہال میں تشریف فرما ہیں میں آپ کے نظم و ضبط اور اخلاق کا بہت مداح ہوں۔مجھے آپ لوگوں کو بڑے قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا ہے۔علمی میدان میں بھی اور کھیل کے میدان میں بھی۔جہاں میں آپ کو آپ کی علمی ترقیات پر اور کھیل کے میدان میں ٹھوس کامیابیاں حاصل کرنے پر مبارکباد دیتا ہوں۔وہاں میں اس سے بڑھ کر آپ کو آپ کے نظم و ضبط، آپ کے سلیقہ اور آپ کے صبر و قتل پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔کیونکہ آپ نے مسلسل عملی مشکلات کے باوجود کبھی حوصلہ نہیں ہارا۔آپ اپنے نتائج پر بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں اور اپنی مختلف انجمنوں یعنی کالج یونین، مجلس ارشاد مجلس عربی، بزم اردو، سائنس سوسائٹی مجلس ریاضی، بزمِ شماریات، بزمِ سیاسیات، بزم تاریخ ، بزم فارسی ور مجلس اقتصادیات کی شاندار کارکردگی پر بھی۔پنجاب میں جنت۔احمد یہ محلہ قادیان پارٹیشن کے بعد جب کہ پنجاب کے تمام شہر مسلمانوں سے خالی ہو گئے تھے اس وقت محض اللہ کے فضل سے قادیان کی مقدس بستی ایک فعال اور منظم مرکز کی حیثیت سے برقرار رہی۔اس دوران قرب و جوار کے ہزاروں بااثر مسلم اور غیر مسلم احباب قادیان آتے تا کہ جماعت احمدیہ سے متعارف ہوں اور اس کے دائگی مرکز کو بچشم خود دیکھ سکیں۔اس قسم کے زائرین نے مختلف مواقع پر جماعت احمدیہ اور اس کے مرکز کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔درج ذیل مضمون بھی اسی نوعیت کے ایک پنجابی مضمون ” پنجاب وچ جنت کا اردو ترجمہ ہے۔یہ مضمون ڈاکٹر گیان سنگھ مسکین پر دھان پنجابی سمجھاتر سکا امرتسر نے لکھا کہ د مغل خاندان کے بادشاہ جہانگیر نے اپنی کتاب " تزک جہانگیری“ میں لکھا ہے کہ کشمیر کے خوبصورت اور دل کو موہ لینے والے خطہ کو آسمان سے نازل شدہ جنت کا خطاب دیا گیا ہے۔جس نے بھی ایک باراس جنت کو دیکھا اس کا دل ہر سال ہی اسکو دیکھنے کے لئے بیتاب رہتا ہے۔لیکن اگر آپ نے اس جنت ( یعنی کشمیر کے دیدار ابھی تک اپنی گھریلو مصروفیات کے باعث نہ کئے ہوں تو تر سکے سے تمیں چالیس میل کی دوری پر آسمان سے اتری ہوئی جنت کو دیکھ سکتے ہیں اور وہ ہے قادیان۔مجھے ایک روز اس خوبصورت جنت کو دیکھنے کا موقع میسر آیا۔میں تر سکہ سے ہرگوبند پورہ اور ہر چووال