تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 291 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 291

تاریخ احمدیت۔جلد 25 291 تعلیم الاسلام کالج گھٹیالیاں سے ڈپٹی کمشنر ضلع سیالکوٹ کا خطاب سال 1969ء ۱۴ جون ۱۹۶۹ء کو تعلیم الاسلام کالج گھٹیالیاں میں تقسیم انعامات اور سال دوم کے طلبہ کی الوداعی تقریب تھی۔اس موقع پر میاں اصغر علی صاحب ڈپٹی کمشنر ضلع سیالکوٹ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ اس علاقہ میں جن لوگوں نے یہ اعلیٰ اور عمدہ ادارہ قائم کیا ہے وہ قابل صد مبارکباد ہیں۔انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی تعمیل کی ہے کیونکہ اسلام تعلیم کی اہمیت پر بہت زور دیتا ہے۔آپ نے طلباء کو نصیحت کی کہ ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ محنت اور خلوص سے کام کریں۔آج تو مسلمان آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیوں میں جا کر تعلیم حاصل کرنا فخر سمجھتے ہیں لیکن ایک زمانہ وہ تھا کہ بادشاہوں کے بیٹے قرطبہ کی مسلم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنا موجب فخر سمجھتے تھے۔آپ نے اس علاقہ کے لوگوں پر بھی واضح کیا کہ اس کالج کا یہاں کھلنا ساری قوم پر احسان ہے اور اس ادارہ کی ہر ممکن مدد نہ کرنا اور یہاں اپنے بچوں کو تعلیم کے لئے نہ بھیجا نا شکر گزاری ہوگی۔ڈاکٹر حمید الدین صاحب کا فکر انگیز خطبہ اسناد 45- ۲۹ جون ۱۹۶۹ء کوتعلیم الاسلام کا لج ربوہ کا سالانہ جلسہ تقسیم اسناد و انعامات منعقد ہوا۔اس سادہ اور پُر وقار تقریب میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے چیئر مین جناب ڈاکٹر حمید الدین صاحب نے ایک پر مغز خطبہ اسنادارشاد فرمایا اور بتایا کہ طباء قوم کا انتہائی قیمتی سرمایہ ہیں اور قوم کے مستقبل کا دارو مدار انہی پر ہے۔اگر ہمارے طلباء خلوص و صداقت اور جائز استحقاق کے اوصاف سے پورے طور پر متصف ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو دنیا کی عظیم طاقتوں میں شمار ہونے سے روک نہیں سکتی۔اس کے ساتھ ہی طلباء کی خود فریبی ، فریب کاری اور بلا استحقاق حصول کامیابی کے خطرناک رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم مذہب کے معاملات میں بھی تصنع اور فریب سے باز نہیں آتے۔ہمارے اکثر نو جوان اس مرض کا شکار ہیں بجائے اس کے کہ وہ دیانتداری کے ساتھ اسلام قبول کریں یا اس کا انکار کریں وہ منہ سے تو اس کا اقرار کرتے ہیں لیکن اپنی زندگی کے کسی میدان میں اس کے اصولوں کو اپنا نا پسند نہیں کرتے اور اس کے باوجود ہمارے اکثر نوجوان ظاہر داری کا لباس اوڑھے پھرتے ہیں۔اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور بھول کر بھی وہ کام نہیں کرتے جو ایک سچے مسلمان کو کرنے چاہئیں۔