تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 293 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 293

تاریخ احمدیت۔جلد 25 293 سال 1969ء ہوتا ہوا فردوس نما قصبہ قادیان میں پہنچا۔بس سے اتر کر میں ایک فوٹوگرافر کی دوکان پر کھڑا ہو گیا جس کا مالک ہند و تھا۔میں نے اس سے دریافت کیا کہ بابو جی! احمد یہ جماعت کا دفتر کہاں ہے؟ اس نے جھٹ بہت ہی پیار سے سڑک پر کھڑے ہو کر کہا کہ یہ بازارسیدھا احمد یہ چوک کو جائے گا۔میں اس کے بتائے ہوئے راستہ پر چل پڑا۔راستہ میں مجھے ایک سکھ دوست ملے۔میں نے انہیں ست سری اکال بلا کر دریافت کیا کہ احمد یہ جماعت کا دفتر کس طرف ہے؟ سردار جی نے بڑے پیار سے جواب دیا کہ کا کا جی ! احمد یہ چوک یہاں سے کوئی ہمیں چھپیں قدم پر ہے۔وہاں پہنچ کر آپ کسی بھی مسلمان سے احمد یہ دفتر کے بارہ میں دریافت کرلیں۔سو میں جلدی جلدی احمد یہ چوک میں جا پہنچا۔ایک مسلمان دوکاندار کو السلام علیکم کہی اور اس سے احمد یہ دفتر کے بارہ میں پوچھا۔انہوں نے بڑے ہی پیار سے مجھے اپنی دکان پر بٹھا لیا۔اور دریافت کیا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں۔جس پر میں نے جواب دیا کہ میں ضلع امرتسر سے آرہا ہوں اسکے میٹھے اور پیارے الفاظ کا میرے دل پر بہت اچھا اثر پڑا۔اتنی دیر میں ادھر سے ایک چھوٹا سا بچہ گزرا جسے انہوں نے میرے ساتھ بھجوا دیا۔اور اس لڑکے نے مجھے احمدیہ دفتر میں پہنچا دیا۔دفتر والوں نے جماعت کے بارہ میں میری راہنمائی کی اور سری گورونانک اور سری گورو گوبند جی مہاراج کے کلام میں سے مثالیں دے کر اس بات کو میرے ذہن نشین کروادیا کہ سب روحانی لوگ انسانوں کا تعلق اللہ تعالی سے کروانے آتے ہیں۔اس کے بعد میں نے مینار دیکھا۔دفتر والوں کے نیک برتاؤ کا بھی میرے دل پر بہت اچھا اثر پڑا۔میرا دل چاہتا تھا کہ ان سے دیر تک گفتگو کرتا رہوں مگر وقت کی قلت کے باعث میں ایسا کرنے سے محروم رہا۔اس کے بعد مجھے جنت (بہشتی مقبرہ) دیکھنے کا موقع ملا۔قادیان کے کرمچاریوں نے مجھے بہت ہی پیار کیا جس سے میرا دل باغ باغ ہو گیا۔میں یوں محسوس کر رہا تھا جیسے میں واقعی جنت میں گھوم رہا ہوں۔اس کے بعد میں احمد یہ جماعت کے مہمان خانہ میں آیا۔لنگر خانہ کے کارکنان نے بھی میرے ساتھ جو نیک برتاؤ کیا اس کے نقوش بھی میرے دل پر ابھی تک موجود ہیں۔مولوی بشیر احمد صاحب کی خوش خلقی بھی میرے دل پر اثر انداز ہوئے بغیر نہیں رہ سکی۔مہمانخانہ میں مجھے ایک کمرہ دے دیا گیا جس میں بجلی کی لاٹ اور پنکھے وغیرہ کا خاطر خواہ انتظام تھا رات کو کھانے وغیرہ سے میری تواضع کی گئی۔جماعت احمدیہ کے کارکنان کے میٹھے الفاظ اور ان کے نیک برتاؤ کا نظارہ میرے دل میں بار بار