تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 248
تاریخ احمدیت۔جلد 25 248 سال 1969ء اپنی نمازیں اور دیگر عبادات ادا کرتے تھے۔قال اللہ وقال الرسول ان کا معمول تھا۔فضولیات اور لغویات سے انہیں نفرت تھی۔بے فائدہ اور لایعنی مشاغل میں مصروف رہنے کی نہ انہیں فرصت تھی نہ انہیں بے فائدہ کی نہ عادت تھی۔لوگوں کی برائیاں بیان کرتے اور غیبت کرتے ہوئے میں نے ان کو کبھی نہیں دیکھا۔انہوں نے ہمیشہ اپنے کام سے کام رکھا اور دوسرے کے کام اور دوسرے کے فعل سے کوئی سروکار نہ رکھا۔جھگڑوں، بکھیڑوں میں پڑنے اور لڑنے بھڑنے سے ہمیشہ احتراز کرتے اور اس فرمانِ خداوندی پر پوری طرح عامل تھے کہ جب جاہل انہیں خطاب کرتے ہیں تو وہ سلام کہہ کر گذر جاتے ہیں۔کتاب کے متن میں محترم محمد اسمعیل صاحب پانی پتی نے حضرت چوہدری صاحب کی دینی مصروفیات کا جوا جمالی خاکہ پیش کیا ہے وہ درج ذیل ہے۔حضرت چوہدری صاحب کی زندگی نہایت مصروف زندگی تھی۔جو آپ نے تمام تر دینی خدمت، اعلائے کلمۃ الحق، وعظ ونصیحت اور درس و تدریس میں گزاری۔وہ قبول احمدیت کے بعد عمر کے ہر حصہ میں والہانہ شوق کے ساتھ اس مقدس مشغلے میں منہمک رہے۔اصول اسلام کی اشاعت اور دعوت الی اللہ کی ذیل میں جو مخلصانہ کوششیں حضرت چوہدری صاحب نے جھنگ، ملتان ، لندن، کراچی اور شیخو پورہ وغیرہ میں ایک طویل عرصے تک کیں ان کا ایک اجمالی خاکہ ان کے قابل فرزند ڈاکٹر عبدالسلام نے کھینچا ہے جو ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ا۔چوہدری صاحب کی رہائش جھنگ شہر میں ۱۹۴۱ء تک رہی وہاں آپ جھنگ مگھیانہ میں ڈسٹرکٹ انسپکٹر مدارس ضلع جھنگ کے دفتر کے ہیڈ کلرک تھے۔سرکاری فرائض کی سرانجام دہی سے جو وقت بچتا وہ سارے کا سارا آپ دینی خدمت میں خرچ کر دیتے تھے۔چنانچہ جھنگ شہر کی بیت الحمد آپ ہی کی پُر خلوص جد و جہد کا نتیجہ ہے۔جماعت احمدیہ کی بنیاد بھی جھنگ شہر میں آپ ہی نے ڈالی۔وہاں آپ بیت الحمد کے امام الصلوۃ بھی رہے اور جماعت جھنگ کے امیر بھی۔۲۔۱۹۴۱ء میں آپ کا تبادلہ انسپکٹر آف سکولز ملتان ڈویژن کے ہیڈ کلرک کے طور پر ہو گیا اور ۱۹۵۰ء میں آپ یہیں سے ریٹائر ہوئے۔مگر ۱۹۵۵ء تک ملتان میں ہی سکونت پذیر رہے۔یہاں کی بیت الحمد کو آپ نے آباد کیا اور اس کی امامت کے فرائض انجام دئے۔اس دوران میں آپ جماعت احمد یہ ملتان اور ازاں بعد جماعت ہائے احمد یہ ضلع ملتان کے امیر رہے۔اسلام اور احمدیت کی خدمت کا سب سے زیادہ موقعہ آپ کو ملتان ہی میں ملا۔