تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 249 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 249

تاریخ احمدیت۔جلد 25 249 سال 1969ء ۳۔۱۹۵۵ء میں آپ اپنے آبائی وطن جھنگ شہر میں واپس تشریف لے آئے۔جہاں اصل کام آپ کا یہ تھا کہ جھنگ کی جماعت کو مضبوط بنائیں۔اور وعظ و نصیحت کے ساتھ ان کو دین کی خدمت اور اصلاح اخلاق کی طرف متوجہ کریں۔آپ جھنگ کی جماعت کے امیر تھے۔۴۔اپریل ۱۹۵۹ء میں چوہدری صاحب اپنے فرزند ڈاکٹر عبدالسلام کے پاس لندن تشریف لے گئے۔آپ کا لندن جانا حضرت میاں بشیر احمد صاحب ( اللہ تعالیٰ آپ کے درجات کو بلند کرتا رہے) کے ارشاد کی تعمیل میں ہوا کیونکہ حضرت میاں صاحب کی بڑی خواہش تھی کہ جماعت کی بزرگ ہستیاں جن کا ظاہری، اخلاقی اور روحانی اثر نئی پو دے سکے ضرورلندن میں رہنی چاہئیں۔چنانچہ جب حضرت میاں صاحب کی خواہش کے مطابق چوہدری صاحب لندن گئے۔تو حضرت میاں صاحب نے کئی باران کو تحریر فرمایا کہ میں آپ کی ہمت پر رشک کرتا ہوں اور اس بات پر بھی رشک کرتا ہوں کہ کس طرح اس پیرانہ سالی میں آپ جماعت کی خدمت بجالا رہے ہیں۔قیام لندن کے ایام میں آپ کا سارا وقت دینی مصروفیات میں بسر ہوتا تھا۔دعوت الی اللہ کے وہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت اچھے موقعے دئے۔اس عرصے میں آپ نے وہاں بکثرت لیکچر اردو اور انگریزی میں دئے۔۵۔لندن میں آپ دسمبر ۱۹۶۲ ء تک رہے۔۔جنوری ۱۹۶۳ء میں آپ کراچی آگئے۔اور چند وقفوں کے علاوہ وفات کے وقت تک کراچی میں رہے۔مگر برابر دعوت الی اللہ میں مصروف رہے۔قیام کراچی کے دوران آپ کئی کئی ماہ جھنگ شہر، ملتان اور شیخو پورہ میں بھی جا کر رہے۔مگر جہاں بھی جاتے احباب جماعت کو برابر وعظ ونصیحت کرتے رہتے۔ربوہ بھی نہایت شوق کے ساتھ اکثر جایا کرتے تھے۔اس بات پر بڑے خوش تھے کہ پاکستان میں مرکز احمدیت ان کے اپنے ضلع میں واقع ہے۔جھنگ میں ان کی عمر کا بہت کافی حصہ گذرا تھا۔اور وہ ان کا آبائی وطن بھی تھا۔اس لئے آخری عمر میں جھنگ جا کر مستقل طور پر رہنے کی اکثر بڑی تمنا اور آرزو کیا کرتے تھے۔مندرجہ بالا سطور میں جو نقشہ حضرت چوہدری صاحب کی دینی مصروفیات کا ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے کھینچا ہے اسی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت چوہدری صاحب کو خداوند کریم کے کلمات ، حضور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات اور حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ارشادات لوگوں تک پہنچانے کا کتنا زیادہ شوق تھا اور کس قدر زیادہ ذوق تھا۔حقیقت یہ ہے