تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 247 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 247

تاریخ احمدیت۔جلد 25 247 سال 1969ء ہدایت کا موجب ہوں گے۔اور اکثر لوگ ان کو پڑھ کر اپنے افعال و اعمال کو زیادہ بہتر اور زیادہ پسندیدہ بنا سکیں گے۔حضرت چوہدری صاحب نے اپنی نجی زندگی اور اپنے سوانح حیات کے جو واقعات و حالات وقتاً فوقتاً اپنی ڈائریوں میں لکھے وہ میں نے سب ایک جگہ جمع کر دیئے ہیں اور انہیں سے اس کتاب کی ابتدا کی ہے۔اس کے بعد چوہدری صاحب نے جو بکثرت حالات و واقعات اور مشاہدات مختلف اوقات میں اپنی ڈائریوں میں درج کئے وہ بھی قارئین کرام کی خدمت میں پیش کئے گئے ہیں۔کتاب کا مغز اور عطر دراصل یہی حصہ ہے۔جس میں آپ کو ہر قسم کے حالات و افکار ملیں گے۔کتاب کے بعض اہم حصے آپ کے لائق اور قابل فرزند ڈاکٹر عبدالسلام نے مرتب کئے ہیں۔آپ کی وفات کے کوائف اور تدفین کی کیفیت اخبارات سے لے کر میں نے شاملِ کتاب کر دی ہے۔حضرت چوہدری صاحب کے ارتحال پر جن بزرگوں نے آپ کے متعلق اپنے مضامین میں نہایت پُر جوش اور نہایت پُر خلوص الفاظ میں اپنے خیالات کا اظہار کیا میں نے الفضل میں ان سب مضامین کا مطالعہ کر کے ان کا خلاصہ آخر کتاب میں شاملِ اشاعت کر دیا ہے۔میرا دوستی اور محبت کا تعلق حضرت چوہدری صاحب کے ساتھ ۱۹۳۲ء سے تھا جبکہ میں جھنگ کے ایک نیم سرکاری اخبار عروج کا ایڈیٹر تھا۔اور حضرت چوہدری صاحب محکمہ تعلیم جھنگ کے ہیڈ کلرک تھے۔اس لئے مجھے ان کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا۔جب میں جھنگ سے چلا آیا اور حضرت چوہدری صاحب بھی ملتان تبدیل ہو گئے اور پھر ریٹائر ہو گئے۔اس کے بعد بھی ہم دونوں کے باہمی تعلقات میں فرق نہ آیا بلکہ محبت اور موڈت برابر بڑھتی رہی۔یہاں تک کہ موت کے زبر دست ہاتھ نے ان کو مجھ سے جدا کر دیا۔اس تمام طویل عرصے میں میں نے ہمیشہ ان کو نہایت شفیق و خلیق، ہمدرد و ملنسار، مستعد و ہشیار، ایماندار و کارگذار، خلوص و الفت اور امانت و دیانت کا پیکر پایا۔ریا اور عجب سے وہ کوسوں دور تھے۔تکبر اور غروران میں نام کو بھی نہ تھا۔خاکساری اور فروتنی ان کی جبلت میں داخل تھی۔خشونت وغضب سے وہ ہمیشہ مجتنب رہے۔بلا لحاظ مذہب وملت لوگوں کے ساتھ رفق و مدارات سے پیش آتے اور ہر شخص سے نرمی و ہمدردی کا برتاؤ کرتے تھے۔ان کی باتوں میں شیرینی اور ان کے کلام میں مٹھاس تھی۔ان کے سمجھانے کا طریق نہایت دلنشیں ، ان کی نصیحت کا اسلوب بہت مرغوب، ان کی دعوت الی اللہ کا طرز نہایت مؤثر ہوتا تھا۔وہ نہایت پابندی کے ساتھ احکام شریعت بجالانے والے تھے۔اور نہایت خشوع وخضوع کے ساتھ