تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 245
تاریخ احمدیت۔جلد 25 245 سال 1969ء آجاتے تھے۔بعض اوقات تو بیان کرتے کہ آدھی رات کے وقت ایک مریض آگیا اور مجھے اتنی دیر تک اس کے علاج کے لیے مصروف رہنا پڑا کہ تھک گیا اور یوں معلوم ہونے لگا کہ دل کی تکلیف شروع ہوگئی ہے۔آپ کے اس ہمدردی کے جذبہ نے ہی آپ کو ہر دلعزیز بنایا ہوا تھا اور لوگوں میں دیگر ڈاکٹروں کی نسبت آپ کی بہت زیادہ عزت تھی۔یوم التبلیغ کے موقعہ پر یا اتوار کے روز تبلیغی پروگراموں میں آپ نہایت ذوق وشوق سے حصہ لیا کرتے۔لیگوس سے کئی میل دور سڑک کے کنارے چھوٹے چھوٹے جھونپڑوں کے سامنے پمفلٹ ہاتھ میں لیے آپ لوگوں کو اسلام کا پیغام پہنچاتے۔خدا کے فضل سے آپ کے ذریعہ ہزار ہا نفوس صحت یاب ہوئے۔نہایت پر جذب شخصیت کے حامل تھے۔واقفین زندگی کا آپ کے دل میں بے حد احترام تھا اور آپ ان کی غیر معمولی طور پر حوصلہ افزائی فرماتے۔جلسہ سالانہ نائیجیریا کے موقع پر میڈیکل ایڈ کے آپ ہی منتظم ہوتے تھے۔حضرت چوہدری محمد حسین صاحب سابق امیر جماعت احمدیہ ملتان (وفات: ۷ اپریل ۱۹۶۹ء) عالمی شہرت کے پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نوبیل انعام یافتہ کے والد ماجد تھے۔۲ستمبر ۱۸۹۱ء کو جھنگ میں پیدا ہوئے۔۱۹۱۴ء میں حضرت خلیفہ اول کے ہاتھ پر بیعت کی۔۱۹۱۴ء سے ۱۹۴۵ء تک جماعت احمدیہ ملتان کے مختلف عہدوں پر ممتاز رہے اور بالآخر امیر جماعتہائے احمد یہ ضلع ملتان کے منصب پر فائز ہوئے۔اپریل ۱۹۵۹ء سے دسمبر ۱۹۶۲ ء تک لندن میں قیام فرمار ہے۔اس دوران آپ نے سیکرٹری تعلیم و تربیت جماعت احمد یہ لندن کے فرائض سرانجام دیئے اور ۱۷۰ کے قریب لیکچر دیئے۔۱۹۶۲ء میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔آپ قرآن مجید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق مستجاب الدعوات، صاحب کشف بزرگ اور اہل اللہ میں سے تھے۔ملک حبیب الرحمن صاحب انسپکٹر سکولز و ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ تحریر فرماتے ہیں۔آپ کی شادی کو ابھی تین ماہ ہی ہوئے تھے کہ آپ نے دیکھا ایک فرشتہ ہے جو ایک خوبصورت بچہ کو ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے ہے اور کہتا ہے کہ یہ آپ کا عبدالسلام ہے۔اسی طرح ایک دفعہ دیکھا کہ محترم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے پاس ایک نہایت خوبصورت چوغہ ہے۔چوہدری صاحب نے آپ سے فرمایا۔یہ عبد السلام کے لئے ہے۔عزیزم عبدالسلام ابھی بچہ ہی تھا کہ آپ نے دیکھا کہ عزیز ایک نہایت بلند کھجور پر چڑھ رہا ہے اور اتنی بلندی پر