تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 238
تاریخ احمدیت۔جلد 25 238 سال 1969ء ذکر کیا جا چکا ہے کہ دیوان سکھ آنند صاحب سپیشل مجسٹریٹ گورداسپور نے مولوی عطاء اللہ صاحب کو زیر دفعہ ۱۵۳ الف تعزیرات ہند مجرم قرار دیتے ہوئے چھ ماہ قید با مشقت کی سزا دی۔اس سلسلہ میں سال زیر رپورٹ میں جو کارروائی ہوئی۔اس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔مولوی عطاء اللہ صاحب نے اس فیصلہ کے خلاف مسٹر ہے۔ڈی کھوسلہ سیشن جج گورداسپور کی عدالت میں اپیل دائر کی۔جس میں مسٹر کھوسلہ نے ملزم کے جرم کو محض اصطلاحی قرار دیتے ہوئے تا بر خاستگی عدالت کی برائے نام قید کی سزا دی۔نیز اپیل کا فیصلہ کرتے ہوئے مسٹر کھوسلہ نے اپنے فیصلہ میں سلسلہ عالیہ احمد یہ اور اس کی بزرگ ہستیوں پر ایسے ایسے کمینہ حملے کئے جو کہ ایک حج کے شایانِ شان نہ تھے۔گویا وہ فیصلہ مولوی عطاء اللہ صاحب کے متعلق نہیں تھا بلکہ سلسلہ عالیہ احمدیہ اور سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی شان والا صفات کے خلاف گندہ دہنی کا ایک پلندہ تھا۔یہ فیصلہ ۶ جون ۱۹۳۵ء کو کیا گیا۔از روئے قواعد سر کاری تاریخ فیصلہ کے دوماہ بعد تک گورنمنٹ اس کے خلاف اپیل کر سکتی تھی۔کیونکہ گورنمنٹ اس مقدمہ میں مدعی تھی۔اور ہمیں قوی امید تھی کہ گورنمنٹ برطانوی انصاف کے ماتھے پر اس سیاہ داغ کو کبھی بھی پسند نہ کرے گی۔اور اس کے خلاف عدالت عالیہ لاہور میں اپیل کرے گی۔مگر افسوس کہ گورنمنٹ نے سلسلہ عالیہ احمدیہ اور بزرگان سلسلہ کی عزت کا ذرا بھی پاس نہ کیا اور صرف اپنے متعلق امور پر ہی عدالت عالیہ میں نگرانی دائر کی۔اب ضرورت تھی کہ ہم خود اپنی اور سلسلہ عالیہ کی پوزیشن کو صاف کرنے کیلئے میدان میں آئیں اور قانونی چارہ جوئی کریں۔اس کے لئے نظارت بیت المال کی امداد سے انداز ا۱۲۰۰۰ رو پید ا حباب جماعت سے مقدمہ کے اخراجات کے لئے جمع کیا گیا۔اور عدالت عالیہ لاہور میں اس غیر منصفانہ فیصلہ کے ایسے حصوں کے خلاف جن میں سلسلہ کی توہین کی گئی تھی۔حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کی طرف سے نگرانی دائر کی گئی۔مکرم جناب شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ ہائیکورٹ لاہور کو اس مقدمہ کا پیروکار مقرر کیا گیا۔مقدمہ کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک کثیر رقم بطور فیس برداشت کر کے ڈاکٹر سر تیج بہادر سپر و بیرسٹر ایٹ لاءالہ آباد ہائیکورٹ کو اس مقدمہ میں پیشی کے لئے بلایا گیا۔اس مقدمہ کے لئے بہت ساریکارڈ جمع کیا گیا اور سلسلہ کے بہت سے مخلص اصحاب اور کارکنان رات دن نہایت محنت سے کام کرتے رہے۔آخر بتاریخ ۱ نومبر ۱۹۳۵ء آنریبل مسٹر جسٹس کولڈ سٹریم حج عدالت عالیہ لا ہور نے اس نگرانی کا فیصلہ کیا۔جس میں مسٹر کھوسلہ کے فیصلہ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بہت سے ایسے فقرے قلمزن کئے جو