تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 237 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 237

تاریخ احمدیت۔جلد 25 237 سال 1969ء احمد یہ ہوٹل لاہور میں قیام کے دوران ہی آپ کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ تحریک شدھی کے خلاف جہاد کے لئے آپ بھی دوسری سہ ماہی کے پہلے وفد میں علاقہ ارتداد میں تشریف لے گئے۔یہ وفد۲۰ جون ۱۹۲۳ء کو بعد نماز عصر قادیان سے روانہ ہوا۔سیدنا حضرت مصلح موعود مع قادیان کے تمام احمدی احباب کے حسب دستور بیرون قصبہ کے بیرون تک ساتھ رہے اور پُر خلوص دعاؤں سے الوداع کہا۔اس موقع پر سید نا حضرت مصلح موعود نے تمام ارکان وفد کو شرف مصافحہ بھی بخشا۔اخبار الفضل ۲۵ جون ۱۹۲۳ء صفحہ ۱-۲ پر وفد کی روانگی کے کوائف اور اس کے معزز ممبران میں آپ کا یہ نام گرامی نمبر ۲۷ پر درج ہے۔”میاں عطاء اللہ صاحب بی اے ایل ایل بی سٹوڈنٹ لاہور ۱۹۲۸ء میں قانون کا امتحان پاس کرنے کے بعد نواں شہر ضلع جالندھر میں پریکٹس کا آغاز کیا۔۱۹۳۵ء کا سال سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں ایک ہنگامہ خیز سال ہے جبکہ مسٹر جے ڈی کھوسلہ سیشن حج گورداسپور نے عطاء اللہ بخاری کی اپیل کے سلسلہ میں اپنے رسوائے عالم فیصلہ میں سلسلہ احمدیہ اور اس کی بزرگ شخصیتوں پر ایسے ایسے کمینے حملے کئے جو کسی فاضل جج کے شایان شاں تو ایک طرف رہے، کسی شریف انسان کو بھی زیب نہ دیتے تھے۔اس فیصلہ کے جواب میں میاں عطاء اللہ صاحب کے قلم سے ”مقدمہ سرکار بنام عطاء اللہ شاہ بخاری اور مسٹر کھوسلہ سیشن جج گورداسپور کے فیصلہ پر ایک تنقیدی نظر“ کے زیر عنوان ایک معرکہ آراء اور باطل شکن رسالہ شائع ہوا جو پچاس صفحات پر مشتمل اور اسلامک پریس گوجرانوالہ میں طبع ہوا تھا۔اس رسالہ نے قانونی نقطہ نگاہ سے جسٹس کھوسلہ کے فیصلہ کے دجل و تلبیس کو چاک چاک کر کے اصل حقائق روز روشن کی طرح واضح کر دئے اور احرار ہندو کانفرنس اور حکومت پنجاب کی متحدہ کوششیں پیوند خاک ہو گئیں جسے میاں صاحب کے ایک شاہکار کی حیثیت سے ہمیشہ یادرکھا جائے گا۔اس رسالہ کی روشنی میں جماعت احمدیہ کی طرف سے آنریبل مسٹر جسٹس کولڈ سٹریم حج ہائیکورٹ لاہور کی عدالت میں فیصلہ کھوسلہ کے خلاف نگرانی دائر کی گئی جس میں جماعت احمدیہ کو فتح مبین حاصل ہوئی اور کھوسلہ کے شرمناک ریمارکس خارج کر دئے گئے چنانچہ صدرانجمن احمد یہ قادیان کی سالانہ رپورٹ ۳۶ - ۱۹۳۵ء کے صفحہ ۱۵۲-۱۵۳ میں لکھا ہے :- وو مقدمہ مولوی عطاء اللہ صاحب بخاری کے سلسلہ میں سال گذشتہ کی رپورٹ میں اس حد تک