تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 239
تاریخ احمدیت۔جلد 25 239 سال 1969ء کہ سلسلہ عالیہ احمد یہ اور بزرگان سلسلہ احمدیہ کی توہین کا موجب تھے۔مسٹر کھوسلہ کے فیصلہ کے خلاف سخت ریمارکس کئے اور تحریر کیا کہ سیشن جج نے خواہ مخواہ اپنا راستہ چھوڑ کر ایسے فریق کو کو سا ہے جو فریق مقدمہ نہیں تھا۔اس سے شبہ پڑتا ہے کہ جج نے فیصلہ کو منصفانہ نگاہ سے نہیں دیکھا۔مگر چونکہ مدعی (گورنمنٹ) کی طرف سے اس فیصلہ کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں تھی اس لئے جسٹس کولڈ سٹریم اس سارے فیصلے پر غور نہیں کر سکتے تھے۔مگر تا ہم جس حد تک قانون ان کو اجازت دیتا تھا انہوں نے نہایت انصاف سے کام لیا۔اس مقدمہ میں مکرم شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ ہائیکورٹ لاہور۔جناب مرزا عبدالحق صاحب پلیڈر گورداسپور۔ڈاکٹر سرتیج بہادر سپر والہ آباد۔مولوی فضل الدین صاحب پلیڈ ر قادیان۔جناب چوہدری اسد اللہ خان صاحب بیرسٹر ایٹ لاءایم۔ایل۔سی لاہور۔جناب پیراکبر علی صاحب ایڈووکیٹ ایم ایل سی فیروز پور۔جناب مسٹر سلیم صاحب بیرسٹر لا ہور اور مولوی غلام محی الدین صاحب قصوری کی سعی اور محنت قابلِ شکریہ وامتنان ہے۔جسٹس کولڈ سٹریم حج عدالت عالیہ لاہور کے اس فیصلہ کو بزبان انگریزی دس ہزار کی تعداد میں چھپوایا گیا اور ہندوستان اور ممالک غیر میں بھجوایا گیا اور بھجوایا جا رہا ہے تا کہ مسٹر کھوسلہ کے گمراہ کن فیصلہ سے جو مکر وہ اثر انگریزی دان دنیا میں پھیلا ہوا ہے وہ زائل ہو سکے۔میاں عطاء اللہ صاحب اپریل ۱۹۳۷ء میں کورٹ آکشیپیر کے عہدہ پر فائز ہو کر نواں شہر سے امرتسر منتقل ہو گئے۔اس موقع پر ضلع گورداسپور کے مخلص احمدیوں کو ایک پُر خلوص الوداعی ایڈریس پیش کیا گیا۔امرتسر میں بھی ملک کے بٹوارہ (اگست ۱۹۴۷ء) تک سلسلہ احمدیہ کی خدمات کے قیمتی مواقع میسر آئے۔قبل ازیں آپ ۱۹۲۹ء سے گورداسپور اور پھر ۱۹۳۰ء سے ۱۹۳۷ء تک نواں شہر یا کر یام کے نمائندہ کی حیثیت سے مجلس مشاورت قادیان شرکت فرماتے رہے۔امرتسر میں آپ ۱۹۴۴ء کے سوا ۱۹۳۸ء سے ۱۹۴۷ء تک باقاعدگی سے مشاورت میں امرتسر کی نمائندگی کا کمال خوبی سے فریضہ ادا کیا۔نظارت علیا، نظارت امور عامه نظارت امور خارجه، نظارت بہشتی مقبره و تالیف و تصنیف و نظارت بیت المال کی کمیٹیوں کے رکن کی حیثیت سے اہم خدمات بجالاتے رہے۔قیام پاکستان کے بعد آپ ہجرت کر کے راولپنڈی میں مقیم ہو گئے اور سالہا سال تک جماعت احمد یہ راولپنڈی کی امارت سنبھالی اور وہ از سر نو ترقی کی راہ پر گامزن ہوگئی۔مسجد نور مری روڈ راولپنڈی