تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 225 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 225

تاریخ احمدیت۔جلد 25 225 سال 1969ء اکثر آدھی رات کو مسجد میں جا کر قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتے تھے۔بعض دوست ان سے پہلے جانے کی کوشش کرتے مگر ہر روز ہی پہلے وہ آپ کو قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے پاتے۔آپ چونکہ موصی تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ملاقات کا شرف حاصل کر چکے تھے۔اس لیے بہشتی مقبرہ میں قطعہ صحابہ میں دفن ہوئے۔61 حضرت منشی عبدالسمیع صاحب کپور تھلوی ولادت: قریباً ۱۸۸۵ء (الحکم ۲۸ را پریل ۱۹۳۵ء صفحہ ۳ سے پتہ چلتا ہے کہ ۱۹۳۵ء میں آپ کی عمر ۵۰ سال تھی جس سے سال ولادت ۱۸۸۵ء متعین ہوتا ہے ) بیعت : ۱۸۹۸ء وفات : ۲۸/ ۲۹ نومبر ۱۹۶۹ء جناب منشی عبدالسمیع صاحب کپور تھلوی نے مولوی عبدالرحمن انور صاحب بوتالوی کو بتایا کہ ”میرے والد صاحب مجھ سے پہلے بیعت شدہ تھے۔( آپ کے والد حضرت منشی عبدالرحمن صاحب نے ۲۴ مارچ ۱۸۹۷ء کو بیعت کا شرف حاصل کیا۔از اصحاب احمد جلد چہارم صفحه ۱۸ طبع دوم مؤلفه ملک صلاح الدین صاحب ایم اے اشاعت دسمبر ۱۹۶۸ء۔انہوں نے لدھیانہ میں بیعت کی تھی ) میں بیعت کے بعد جلسہ سالانہ پر بھی حضرت صاحب کے زمانہ میں قادیان آتا رہا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ مل کر کھانا کھانے کا موقع بھی ملا ہے۔۔۔ریویو آف ریلیجنز کے اجراء کے وقت ایک جلسہ کیا گیا جو مسجد اقصیٰ میں ہوا۔آپ نے اس میں تقریر کی۔۔۔مقدمہ کرم دین میں میں بہت دفعہ حضرت صاحب کے پاس گورداسپور جاتا رہا ہوں۔گورداسپور میں جب کھانا پکتا تھا تو ملک غلام حسین صاحب کھانا پکایا کرتے تھے اگر سو آدمی آجائیں تب بھی وہی وزن ہوتا تھا اگر ڈیڑھ سو آ جائیں تب بھی وہی وزن ہوتا تھا۔سردار فضل حق نے جو گورداسپور میں مسلمان ہوا تھا گورداسپور میں دریافت کیا کہ عورتوں کی تعلیم کتنی ہونی چاہیے۔فرمایا اتنی ہونا چاہیے کہ نماز روزہ دینیات سے واقف ہو دوسرے یہ کہ خط لکھنا جانتی ہو خط لکھانے کے وقت غیر شخص پر اپنا حال نہ ظاہر کرنا پڑے۔64 منشی صاحب کی خود نوشت روایات میں ہے:۔جیسا کہ اور لوگوں کا حال ہوتا ہے کہ جب ان پر کوئی مقدمہ ہو جائے تو مارے فکر کے برا حال ہو جاتا ہے۔گورداسپور کرم دین کے مقدمہ میں حضور کو دیکھا گیا کہ عدالت میں آواز پڑنے سے قبل