تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 226
تاریخ احمدیت۔جلد 25 226 سال 1969ء حضور بالکل اطمینان سے بلا کسی ترد دعام مجلس میں بیٹھے باتیں کرتے رہتے تھے۔جب عدالت میں حضور کو آواز پڑتی تو بلا کسی تردد کے شیر کی طرح عدالت کے کمرہ کی طرف تشریف لے جاتے اور بڑی تیزی سے جاتے۔کسی قسم کا فکر چہرہ مبارک پر ظاہر نہیں ہوتا تھا۔گورداسپور کے مقام پر (حضرت) میاں شریف احمد صاحب جو ابھی کمسن تھے کھیلتے کھیلتے ادھر اُدھر ہو گئے۔معلوم ہونے پر حضور نے فوراًدوستوں کو تلاش کے واسطے دوڑایا۔چنانچہ (حضرت) میاں صاحب جلدی ہی مل گئے۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام گھر سے ایک کھڑکی کے راستہ تشریف لاتے تھے تو میں کھڑکی کے پاس کھڑا ہوتا تھا کہ حضور سے مصافحہ کروں اور سلام عرض کروں۔لیکن بہت کم اتفاق ہوتا اور عموماً حضور ہی اول السلام علیکم باہر تشریف لانے پر فرماتے۔معمولی معمولی بات کا حضور فور از بانی یا تحریری کسی رقعہ کے حضور کو ملنے پر جواب ارشاد فرماتے تھے۔آپ کی اہلیہ کا نام محترمہ عزیز فاطمہ صاحبہ تھا۔اولاد بیٹے شریف احمد صاحب ان کے بیٹے لئیق احمد صاحب آجکل زعیم انصار اللہ کوٹ عبدالمالک ضلع شیخو پورہ ہیں)، عبداللطیف صاحب، حنیف احمد صاحب،عبداللہ صاحب،عبدالعلیم صاحب بیٹیاں: مریم صدیقہ صاحبہ اہلیہ حضرت حکیم مولوی نظام الدین صاحب آف بیگم کوٹ شاہدرہ لاہور، امتہ القدیر صاحبہ اہلیہ ظہور الحق صاحب امتۃ الرشید صاحبہ اہلیہ غلام حید ر صاحب پاپوش نگر کراچی، امتہ الحمید صاحبہ اہلیہ غلام حیدر صاحب امتۃ الرشید صاحبہ کی وفات کے بعد امتہ الحمید صاحبہ کا نکاح بھی غلام حیدر صاحب سے ہو گیا تھا) حضرت سردار بی بی صاحبہ اہلیہ حضرت قریشی محمد شفیع صاحب ولادت: ۱۸۸۸ء بیعت: ۱۹۰۵ء وفات: ۳۰ نومبر ۱۹۶۹ء آپ کے خاوند حضرت قریشی محمد شفیع صاحب حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے حقیقی بھانجے تھے۔آپ المبا عرصہ قادیان میں حضرت خلیفہ اُسیح الاول کی خدمت میں رہیں۔آپ کی نماز جنازہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے پڑھائی جس کے بعد بہشتی مقبرہ میں آپ کی تدفین ہوئی۔اولاد: قریشی مشتاق احمد صاحب کراچی۔قریشی غلام احمد صاحب ( مختار عام صدر انجمن احمد یہ 66