تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 208
تاریخ احمدیت۔جلد 25 208 سال 1969ء بیٹیاں مکر مہ جبیبہ بیگم صاحبہ زوجہ لطیف احمد صاحب لاہور، مکرمہ خدیجہ بیگم صاحبہ ، مکرمہ سکینہ بیگم صاحبہ، مکرمه تمیزه خانم صاحبه حضرت چوہدری مہر خان صاحب آف کریام ولادت: ۱۸۸۲ء بیعت : ۱۹۰۳ ء وفات: ۳۰ مئی ۱۹۶۹ء آپ حضرت حاجی غلام احمد خان صاحب آف کریام کے چچا زاد بھائی تھے۔آپ کئی بار حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کئی مجالس علم و معرفت سے فیضیاب ہونے کے مواقع آپ کو ملے۔ایک بار قادیان گئے اور حضور کی خدمت اقدس میں عرض کی کہ آجکل ہماری مخالفت بہت ہو رہی ہے۔فرمایا اللہ تعالیٰ بہت جلد جماعت قائم کر دے گا۔چنانچہ تھوڑے ہی عرصہ میں خدا کے مقدس مسیح کی مبارک ہونٹوں سے نکلی ہوئی یہ بات پوری ہوگئی اور کریام میں ایک مخلص جماعت قائم ہوگئی۔۱۹۰۵ء میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑے باغ میں قیام فرما تھے حضور نے آپ سے حال پوچھا تو عرض کیا کہ اب ہماری مخالفت ختم ہو گئی ہے۔حضور خاموش سے ہو گئے جس سے آپ نے سمجھا کہ حضور مخالفت ختم ہونے کو پسند نہیں فرماتے۔مقدمہ کرم دین کے دوران آپ کو ایک بار حضرت اقدس کے ہمراہ گورداسپور جانے کا موقع ملا۔ایک دفعہ آپ قادیان آئے اور حکیم الامت حضرت حافظ مولوی نور الدین صاحب بھیروی کی خدمت میں ایک روپیہ نذرانہ پیش کیا مگر آپ نے روپیہ واپس کر کے فرمایا کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حق ہے میرا نہیں۔چوہدری صاحب نے عرض کیا کہ میں نے غلطی سے نہیں بلکہ آپ کو پہچان کر ہی دیا تھا یہ آپ کے واسطے ہی دیا تھا اس پر آپ نے قبول فرمالیا۔حضرت حاجی غلام احمد صاحب نے ۱۹۴۳ء میں وفات سے قبل وصیت فرمائی تھی کہ میرے بعد امیر جماعت کثرت رائے سے مقرر کیا جائے البتہ میری خواہش ہے کہ چوہدری مہر خاں صاحب کو مقرر کیا جائے۔چنانچہ آپ کے بعد باتفاق رائے آپ ہی امیر جماعت منتخب کئے گئے۔آپ مدرسہ احمدیہ کریام کے مینیجر بھی مقرر ہوئے۔ہجرت کے بعد آپ نے چک نمبر ۰۹اگ۔ب نرائن گڑھ ضلع لائل پور (فیصل آباد ) میں بودو باش اختیار کر لی اور صدر جماعت احمدیہ مقرر ہوئے اور آخر دم تک اس عہدہ پر فائز رہے۔آپ موصی بھی تھے اور تحریک جدید کی پانچیز اری فوج میں بھی شامل تھے۔