تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 209
تاریخ احمدیت۔جلد 25 209 سال 1969ء اولاد عبد اللہ خان صاحب۔احمد خان صاحب۔عبدالرحمن خان صاحب۔عبدالرحیم خان صاحب۔عبدالقادر خان صاحب۔حضرت مرز ا حسام الدین صاحب لکھنوی ولادت : ۱۸۷۷ء دستی بیعت : ۱۹۰۸ء وفات : ۲۳ جون ۱۹۶۹ء آپ نے بطور معلم اصلاح و ارشاد خدمت سلسلہ کی توفیق پائی۔یا بو والا جھنگ میں تعینات رہے۔آپ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بوڑھا صحابی ہوں۔چنانچہ آپ نے تقریباً بانوے سال عمر پائی۔آپ کی وفات لنگر خانہ ربوہ میں ہوئی۔کثیر احباب نے جنازہ میں شرکت کی توفیق پائی۔بعد ازاں قطعہ صحابہ بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین ہوئی۔حضرت منشی عبدالحق صاحب خوشنویس 28 ولادت : ۱۸۸۲ ء بیعت : ۱۸۹۸ء ( بمطابق وصیت فارم) وفات: ۲۰ جولائی ۱۹۶۹ء اصل وطن جوڑ اضلع گجرات تھا۔آپ بہت با کمال خوشنویس تھے۔آپ نے اوائل میں اخبار الفضل قادیان میں کتابت کے فرائض سرانجام دیئے نیز تفسیر کبیر اور سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی متعدد دیگر تصانیف کی کتابت کرنے کا شرف بھی آپ کو حاصل ہوا۔پیرانہ سالی کے باوجود تفسیر صغیر کے طبع اول میں قرآن مجید کے عربی متن کی کتابت آپ ہی نے کی۔یوں تو آپ شروع سے قادیان میں مقیم تھے لیکن ۱۹۲۸ء میں آپ اپنے اہل و عیال کو بھی قادیان مستقل سکونت کیلئے لے آئے۔آپ نے اپنے فرزندا کر مکرم مولوی ابوالمنیر نور الحق صاحب کو شروع ہی سے دینی تعلیم دلوائی اور پھر فارغ التحصیل ہونے پر انہیں خدمت دین کے لئے وقف کیا۔آپ کو لمبا عرصہ خدمت کی توفیق ملی۔حضرت منشی صاحب بہت خوش خلق، کم گو اور دعا گو بزرگ تھے اور موصی ہونے کے علاوہ تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں بھی شامل تھے۔مولا نا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے حضرت منشی عبدالحق صاحب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔’ ایک بہترین کا تب ہونے کی وجہ سے آپ کو دینی کتب و رسائل لکھنے کی سعادت بھی ملتی رہی۔سب سے بڑھ کر آپ کو سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی اولین تفسیر کبیر کے لکھنے کی توفیق عطا ہوئی۔ہر شخص کو خدمت سلسلہ کی اپنے اپنے رنگ میں توفیق ملتی ہے۔حضرت منشی عبد الحق صاحب کو یہ خدمت 30۔