تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 207 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 207

تاریخ احمدیت۔جلد 25 207 سال 1969ء کر کے واپس قادیان آجاتا تھا۔اس آمد ورفت میں کوئی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کر سکا۔محض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مقدس مجالس اور بزرگوں کی صحبتوں سے جو فائدہ اٹھا سکا وہی میری تعلیم ہے۔جن دنوں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام بعض مقدمات کے سلسلہ میں گورداسپور قیام فرما تھے۔آپ بھی ان دنوں وہیں حضور اقدس کے حضور میں حاضر رہتے۔اور جس خدمت کا موقع میسر آ جاتا نعمت غیر مترقبہ سمجھ کر بجالاتے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ کبھی کبھی حضرت خلیفہ مسیح الثانی کےساتھ کھیلنے کا بھی موقع مل جاتا تھا۔حضرت خلیفۃ اسیح الثانی سے ملاقات کے دوران اس عاجز راقم نے بھی ان ایام کا تذکرہ حضور انور کی زبانِ مبارک سے سنا ہے۔وطن میں قیام کے دوران آپ کا مشغلہ احمدیت کی تبلیغ ہوتا تھا۔اگر چہ خاندانی شغل کتب فروشی کے لئے اپنی ایک دکان کھول لی تھی۔جلد سازی بھی کرتے تھے لیکن شہر میں یا شہر کے باہر کسی حصہ میں بھی کوئی موقع پیدا ہوتا تو آپ احمدیت کی تبلیغ ضرور کرتے تھے۔امروہ علمی مدارس کا مرکز ہے۔علوم السنہ شرقیہ کے کئی ادارہ جات وہاں تھے۔دور دور سے لوگ علم کی تکمیل کے لئے آیا کرتے۔ایسے طلباء اکثر آپ کی دکان پر آیا کرتے ، جن سے رات دن بحث جاری رہتی تھی۔بہت سی سعید روحوں کو آپ کے ذریعہ احمدیت کے چشمہ سے سیراب ہونے کا موقع ملا کئی جماعتیں قائم ہوئیں۔مکرم عبدالرحیم صاحب فانی درویش قادیان ان کا خاندان ، سردار نگر ضلع داد آباد کی جماعت ،اسرا خان صاحب جو شاہجہانپور میں ملازم تھے اور اسی طرح کئی دوسرے افراد اور خاندان ان کی تبلیغ اور تربیت کا شیریں ثمر ہیں۔حضرت حافظ صاحب امروہہ سے ہجرت کر کے قادیان میں آگئے تھے اور قیام پاکستان کے بعد ربوہ میں سکونت اختیار کر لی تھی۔بہت نیک، صوم وصلوٰۃ کے پابند اور دعا گو بزرگ تھے۔قرآن مجید بہت خوش الحانی سے پڑھتے تھے اور نہایت درجہ پُر جوش داعی الی اللہ تھے۔عمر بھر لوگوں تک پیغام حق پہنچانے میں سرگرم عمل رہے۔اولاد بیٹے: 24 مکرم بشارت احمد امروہی صاحب مجاہد ملائیشیا، مکرم شرافت احمد صاحب، مکرم ریاست احمد صاحب