تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 6
تاریخ احمدیت۔جلد 25 6 سال 1969ء کا غذات بازیاب ہو گئے تو نقول کو مطابق اصل پا کر ہم حیران رہ گئے۔میرے والد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میرے بیعت کرنے کے بعد کی تھی۔آپ مجھ سے حضرت اقدس کی کتابیں پڑھوا کر سنتے تھے۔اس کے بعد کتاب میں مضمون کا سیاق و سباق خود دیکھ لیتے تھے پھر کبھی کسی حوالہ کی مجھے ضرورت ہوتی تو میں حضرت والد صاحب سے پوچھتا تھا آپ فرماتے فلاں کتاب کے نصف یا ربع کے دائیں یا بائیں حصہ کو دیکھو۔میں کتاب کھول کر دیکھتا تو حوالہ وہیں مل جاتا۔انہوں نے ازالہ اوہام کا کچھ حصہ اور مولوی محمد بشیر صاحب بھوپالوی سے مباحثہ کا مضمون پڑھ کر بیعت کی تھی۔یو۔پی کے نامی علماء نے وفات مسیح کے موضوع پر مختلف مجالس میں آپ سے تبادلہ خیالات کیا۔نہ صرف وہ دلائل جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وفات مسیح کے متعلق دیئے سناتے ، بلکہ آیات قرآن سے ایسے دلائل وفات مسیح پر جو ہم نے پہلے کبھی نہ سنے ہوتے ، بیان فرماتے۔باوجود یہ که مفتی کفایت اللہ جیسے لوگوں کی مخالفت تھی مگر شہر کے عوام نے آپ کی کبھی مخالفت نہ کی تھی۔وہ سب آپ کے سامنے مودب تھے۔ان کا یہ خیال تھا کہ ہمارے خاندان کا ہر فر د جنت میں جائے گا۔میں نے دینی ماحول میں اپنے گھر میں علم دین سیکھا۔صرف ایک ماہ میں روزانہ ایک پارہ قرآن کریم کا حفظ کیا۔میرے حفظ قرآن کا طریق یہ تھا کہ پہلے ایک آیت کے معنوں پر غور کرتا دوسری دفعہ آسمان پر اس آیت کو لکھتا تیسری دفعہ اس کی تکرار کرتا بس وہ آیت ہمیشہ کے لئے مجھے یاد ہو جاتی۔مجھے بچپن میں یہ شوق رہے ہیں کہ نت نئے پھولوں سے باغ کو سجانا، کتابوں کی دکان میں گھس جانا اور دینی کتابیں خرید نا ، قدیم شعراء کے قلمی نسخے خریدنا۔میں نے پھولوں کے گملوں پر اتنا روپیہ خرچ کیا کہ میرے والد صاحب فرماتے کہ اس رقم سے تو ایک باغ خریدا جاسکتا ہے۔حضرت حافظ صاحب کے والد حضرت سید علی میاں صاحب ایک جید عالم دین شاہجہانپور میں سابقین اولین میں سے تھے۔آپ ۱۲ اکتوبر ۱۹۳۰ء کو دار فانی سے دار البقاء کی طرف رحلت فرما گئے۔حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب مختار شاہجہانپوری اپنے والد محترم کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرے والد ماجد حضرت مولانا حافظ سید علی میاں صاحب احمدی جو اپنے تبحر علم و وسعت نظر اور بالخصوص محیر العقول قوت حافظہ کے لحاظ سے ایک نمونہ قدرت الہی تھے۔آپ حضرت اقدس سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی اور ان پرانے خدام میں سے تھے جن کو ۱۸۹۳ء سے پہلے شرف قبول حاصل ہوا جب کہ مخالفت کا طوفان پورے جوش پر تھا۔10-