تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 5 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 5

تاریخ احمدیت۔جلد 25 5 سال 1969ء حضرت حافظ صاحب یوپی (بھارت) کے مشہور مردم خیز خطہ علمی شہر شاہجہان پور کے محلہ ترین بہادر گنج میں حضرت حافظ سید علی میاں صاحب جیسے بزرگ عالم کے ہاں پیدا ہوئے۔حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب کے بھانجے جناب محمد ہاشم صاحب بخاری مجاہد افریقہ کے بیان کے مطابق آپ سات بھائی تھے اور دو بہنیں تھیں۔بڑی بہن جو ہاشم بخاری صاحب کی والدہ تھیں احمدی تھیں۔چھوٹی بہن غیر احمدیوں میں تھیں۔مگر وفات کے وقت وہ احمدیت قبول کر چکی تھیں۔تین بھائی بچپن ہی میں فوت ہو گئے تھے چار جوان ہوئے جن میں حضرت حافظ صاحب بڑے تھے۔دوسرے نمبر پر سید انوار احمد صاحب تھے جو روضہ شوگر فیکٹری میں سپرنٹنڈنٹ تھے۔تیسرے نمبر پر مولوی نوراحمد صاحب فائز تھے ( جو کہ غیر احمدی تھے )۔سب سے چھوٹے بھائی کا نام سید احمد تھا۔جو یکم اپریل ۱۹۶۶ء کو اکولہ ضلع برار میں فوت ہو گئے تھے۔حضرت حافظ صاحب نے ابتدائی تعلیم حافظ فضل احمد صاحب سے حاصل کی اور شعر و شاعری کی ابتداء بھی انہی کی شاگردی سے ہوئی تھی۔بعد میں آپ امیر مینائی کے حلقہ ادب میں آگئے۔علوم متداولہ آپ نے اپنے والد بزرگوار حضرت سید علی میاں صاحب سے حاصل کئے۔ابتدائی حالات حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب اپنے ابتدائی حالات کے بارے میں بیان فرمایا کرتے تھے کہ:۔”میرے مورث اعلیٰ نہایت عابد بزرگ تھے جنہیں نواب پٹھان شاہجہانپور میں لائے اور پھر ان کی خدمت میں بطور نذرانہ وہ مکان، باغات اور زمینیں دیں جو ہمارے خاندان کی جائیداد ہیں۔شاہجہانپور کے قریب ہماری زمینیں بعض دیہات میں بھی ہیں۔میرے والد بزرگوار حضرت حافظ سید علی صاحب نہایت عالم عابد زاہد تھے جن کی زندگی سے مخلص مسلمان کی زندگی تھی۔ان کی نامی شخصیت کی وجہ سے بھی شاہجہانپور میں ہمارے خاندان کو بہت عظمت حاصل ہوئی۔نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو بھی آپ کی بہت تعظیم کرتے تھے۔میں نے حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب کو بیان کرتے سنا کہ یو۔پی کی طرف نظر کرو تو چوٹی کے علماء میں حضرت حافظ سید علی ہیں۔میں نے حافظہ کی خوبی میں عمر بھر حضرت والد صاحب جیسا کوئی ایک شخص بھی نہیں دیکھا۔ایک دفعہ ہماری املاک کے متعلق تمام رجسٹریاں اور سرکاری کاغذات کہیں گم ہو گئے ان کی ہو بہو نقل والد صاحب نے اپنی زبانی یادداشت کی بناء پر سطر به سطرلکھی۔جہاں کوئی لفظ کٹا ہوا تھا نقل میں بھی ویسے ہی کاٹا۔اس کے چند دن بعد جب وہ