تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 166
تاریخ احمدیت۔جلد 25 166 سال 1969ء ہو گئے۔لیکن خلافت ثانیہ کے انتخاب کے بعد غیر مبائعین کے گروہ کے ساتھ شامل ہو کر انگلستان کے دو کنگ مشن کے ساتھ منسلک ہو گئے۔تاہم خلافت ثالثہ میں سال ۱۹۶۹ء کے اخیر میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ دوبارہ بیعت کر کے خلافت کے بابرکت سایہ میں آگئے۔آپ مکرم ڈاکٹر بشارت احمد صاحب مولف مجد داعظم کے داماد اور مکرم مولوی محمد علی صاحب امیر غیر مبائعین کے ہم زلف تھے۔بیعت کے بعد آپ نے ”میری بیعت خلافت کی وضاحت کے زیر عنوان حسب ذیل نوٹ سپرد قلم کیا :۔اس سے قبل کہ ”پیغام صلح میری بیعت خلافت کو رنگ آمیزی اور حاشیہ آرائی کا موضوع بنائے میں خود ہی احباب جماعت کی اطلاع کے لئے وضاحت کر دینا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔اولاً میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کن وجوہات نے مجھے یہ قدم اٹھانے پر آمادہ کیا ہے۔میں نے یہ قدم اصلاح جماعت کی نیت سے اٹھایا ہے۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام موجودہ اختلاف کو جس نے جماعت کے دوٹکڑے کر دیئے ہیں ناراضگی کی نظر سے دیکھتے تھے۔جیسے ان کے اس الہام سے ان کی قلبی کیفیت کی وضاحت ہو جاتی ہے۔"يُصْلِحُ اللہ جَمَاعَتِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى یعنی انشاء الله اللہ تعالیٰ جماعت کے اس اختلاف کو دور کر کے اصلاح کے راستے پر ڈال دے گا اور جماعت میں اتحاد پیدا کرے گا۔ظاہر ہے کہ اختلاف کو دور کرنے کا ایک ہی معقول طریق ہے اور وہ یہ کہ تمام کی تمام جماعت خلافت کے دامن سے وابستہ ہو جائے۔خود حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اس امت میں نبوت کا اسی لئے خاتمہ ہوا کہ میرے بعد خلفاء ہوں گے جو دینی راہ پر قوم کو چلائیں گے۔اس مختصر بیان میں میں مضبوط خلافت کی اہمیت پر زیادہ نہیں لکھ سکتا۔حضرت خلیفہ اول نے بار باراس بات پر زور دیا ہے کہ قومی زندگی کا راز مضبوط مرکز میں ہے۔تاریخ کی بھی یہی شہادت ہے کہ جوں جوں خلافت کمزور ہوتی گئی اسلامی سلطنت زوال پذیر ہوتی گئی۔میرے سابقہ اعلانات سے احباب کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ حضرت مرزا ناصر احمد کی شخصیت نے مجھے بہت متاثر کیا ہے اور میرا ان کی بیعت کرنا اس تاثر کا منطقی نتیجہ سمجھتا ہوں۔کافی غور و خوض کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچنے سے گریز نہ کر سکا کہ ہماری جماعتِ لا ہور وہی کردار ادا کر رہی ہے جو احمدیت کے مخالفین مولوی محمد حسین اور مولوی ثناء اللہ کرتے تھے۔وہ بھی پوراز وراس