تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 167
تاریخ احمدیت۔جلد 25 167 سال 1969ء پر لگاتے تھے کہ کسی طرح احمدیت کو دنیا میں فروغ حاصل نہ ہو۔ہمارے مسلک کا لب لباب تقریباً اسی کے برابر ہے یعنی یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام و نشان مٹ جائے۔ہمارے لٹریچر میں اب یہ ایک کلاسیکی مقولہ بن گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام لینا سم قاتل ہے اور یہ مسلک مشیتِ الہی کے بالکل الٹ ہے۔اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہے کہ احمدیت دنیا کے دور دراز کناروں تک پہنچے گی اور ایک وقت آئے گا کہ احمدیوں کی اکثریت ہوگی اور باقی مسلمان اقلیت بن جائیں گے۔ظاہر ہے کہ ہمارا قدم اس کے بالکل الٹ جا رہا ہے۔دوسری شہادت واقعات کی ہے کہ جب سے ہم نے خدا کے مامور کے دامن پر گرفت کمزور کر دی ہے اللہ تعالیٰ کی نصرت سے ہم محروم ہو گئے ہیں۔اس کی ایک تین مثال یہ ہے کہ ہمارا بہت مشہور و معروف مشن جو ہمارا سرمایۂ ناز تھا ہم سے چھن گیا ہے۔ویسے بھی مشاہدہ یہ ہے کہ جماعت ربوہ اب روز بروز ترقی پذیر ہے۔ہمارے اپنے مبلغین کا اعتراف ہے کہ جو بھی آدمی ہمارے زیر تبلیغ ہوتا ہے وہ بالآخر داخل جماعت ربوہ میں ہی ہوتا ہے۔ہمارے ایک کارکن جو جماعت کی تنظیم پر مقرر ہیں انہوں نے اپنے دورہ جماعت کے بعد مجھے جتلایا کہ جہاں جہاں میں گیا جماعت میں ایک مُردنی اور جمود پایا۔بالفاظ دیگر ہم میں بحیثیت جماعت زندگی کی حرارت بہت کم ہوگئی ہے۔بالفاظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہم زندگی کے فیشن سے دور جا ے ہیں۔اگر جماعت لاہور کو میرے اس مطالعہ سے اختلاف ہو تو بہترین صورت یہ ہے کہ ایک مجلس مناظرہ منعقد کی جائے جس میں دونوں فریق اپنے اپنے دلائل پیش کریں۔اس مجلس کی صدارت کے لئے میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا نام پیش کرتا ہوں۔چاہیے کہ اس مجلس میں دونوں جماعتوں کے لیڈر بھی موجود ہوں تا کہ احباب ان کو دیکھ کر ہی اندازہ کر سکیں کہ آسمانی نور اور سکون کس کے چہرہ پر برس رہا ہے۔میرے نزدیک اختلاف کی ذمہ داری بھی ان احباب پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے خلیفہ اول کی وفات پر خلیفہ ثانی کے بکثرت آراء سے منتخب ہو جانے کے بعد بھی لاہور میں علیحدہ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کا منصوبہ بنایا۔حق یہ ہے کہ میں خود اس موقع پر موجود تھا۔حضرت خلیفہ اول کی وفات پر تقریباً تمام کی تمام قوم مسجد نور قادیان میں جمع ہو گئی تھی اور سب نے بالا تفاق رائے حضرت میرزا محمود احمد کو خلیفہ منتخب کیا۔اس قومی اجماع کے بعد انجمن سازی کا رستہ اختیار کرنا انتشار کا رستہ تھا۔