تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 154
تاریخ احمدیت۔جلد 25 154 سال 1969ء رنگ میں کی جائے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں اور اس رنگ میں نیکی کی بنیاد قائم ہو کہ انہیں ذریت طیبہ بنے اور نیکی پر قائم رکھنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ بنیاد مضبوط ہو۔ایک وقت کے بعد مسلمان اس بنیادی اصل کو بھول گیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ باوجود اس کے کہ ساری دنیا میں سب سے زیادہ اثر مسلمانوں ہی کا تھا لیکن اس بنیادی اصل کو بھولنے کے نتیجہ میں بعد کی نسلیں جب پیدا ہوئیں تو آہستہ آہستہ ان کی تربیت میں کمی واقع ہوتی گئی اور جوں جوں ان کی تربیت میں کمی ہوئی نیکی کی بنیادیں کمزور ہوتی گئیں اور جوں جوں نیکی کی بنیادیں کمزور ہوتی گئیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے اس قدر وارث نہ رہے کہ جس قدر ان کے باپ دادا تھے اور غیروں کو اُن پر فوقیت حاصل ہوگئی۔اُس دنیا میں ( اُخروی زندگی میں) کسی کو جنت کا نچلا حصہ ملے گا اور کسی کو اوپر کا حصہ ملے گا لیکن ہماری جنت اسی دنیا سے شروع ہو جاتی ہے اور اس دنیا کی جنت کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ شرط لگائی ہے کہ دنیا بھی تبھی ملے گی جب تم اس دنیا میں میری جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔پہلے مسلمانوں کی نسل تو چند صدیوں کے بعد کمزور ہوگئی تھی لیکن ہماری نسل کمزور نہیں ہونی چاہیے۔ہم سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ پھر اسلام کو اپنے فضل اور رحم سے غالب کرے گا۔اور اگر ہم اپنی نسلوں کی صحیح تربیت کرتے چلے جائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے انعامات ہم پر قیامت تک بارش کے قطروں کی طرح برستے رہیں گے۔آپ کے دل میں بھی ہمیشہ یہ احساس زندہ اور بیدار رہنا چاہیے کہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے ہیں اور آپ کی نسل میں بھی اور آپ کی زندگی کے اس حصہ میں بھی نیکی کی بنیادیں قائم ہونی چاہئیں اور آپ کو کوشش کرنی چاہیے کہ آپ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت طیبہ بن جائیں۔ایک ایسی پاک اور صاف نسل بن جائیں جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فخر کریر مجلس انصار اللہ کا سالانہ اجتماع 142 انصار اللہ کا چودھواں اجتماع دعاؤں ، ذکر الہی اور انابت الی اللہ کی مخصوص روایات کے ساتھ امسال ۲۴ ۲۵ ۱۲۶ اکتوبر ۱۹۶۹ء کو دفتر انصار اللہ مرکزیہ کے احاطہ میں انعقاد پذیر ہوا۔اس نہایت کامیاب اور روحانیت سے لبریز اجتماع میں مشرقی اور مغربی پاکستان کی ۳۵۶ مجالس کے ۷۴۰ نمائندگان ، ۱۵۸۰ ارارکان اور ۲۰۶۰ زائرین نے شرکت کی۔اجتماع کے دوران مجلس شوری کا انعقاد بھی عمل میں آیا جس میں اصلاحی اور انتظامی امور سے متعلق متعدد تجاویز پر غور کرنے کے علاوہ آئندہ دو سال کے لیے صدر انصار اللہ کا انتخاب بھی عمل میں آیا۔اجتماع کے تین دنوں میں سیرة النبی ہے اور