تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 155 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 155

تاریخ احمدیت۔جلد 25 155 سال 1969ء ذکر حبیب علیہ السلام کی دو مجالس سمیت آٹھ اجلاس منعقد ہوئے۔جن میں مختلف علمی اور تربیتی عناوین پر تقاریر ہوئیں۔ان کے علاوہ انصار کا تقریری مقابلہ ہوا اور سوال و جواب کی مجالس بھی منعقد ہوئیں۔اجتماع خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی طرح اس مبارک تقریب پر بھی حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے نہایت روح پرور اور بصیرت افروز افتتاحی واختتامی خطاب فرمائے۔اور افتتاحی خطاب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث افتتاحی تقریر میں حضور نے نہایت لطیف اور دلکش پیرائے میں سید الاولین والآخرین حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے انتہائی بلند مقام پر روشنی ڈالی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے متعدد نہایت ایمان افروز واقعات بیان کرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے تین درخشندہ اور نمایاں پہلوؤں کو اچھوتے رنگ میں واضح فرمایا۔(۱) ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اقتدارکو انسانیت کی بے لوث خدمت کیلئے وقف کر دیا۔(۲) حضور ﷺ انسانیت کے محسن اعظم تھے۔ہر وقت اور ہر آن انسانوں پر احسان فرماتے تھے۔بیواؤں اور یتامی کی مدد کرتے اُن سے ماں باپ سے زیادہ محبت اور شفقت کا سلوک کرتے تھے۔(۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس میں آپ کی تیسری بینظیرشان ایک عدیم المثال اور نہایت و فادار دوست کے رنگ میں نظر آتی ہے۔حضور نے احباب جماعت اور بالخصوص انصار کو ان کی اہم ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے بتایا کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی اتباع کرنے کا حکم دیا ہے اور اسے ہی اپنی محبت کے حصول کا ذریعہ بتایا ہے۔اس لئے ہمارا فرض ہے کہ حضور نے خدمت، احسان، ہمدردی اور شفقت اور دوستی کو نبھانے کے جو عدیم النظیر نمونے اپنی زندگی میں دکھائے ہم بھی ان کی اتباع کرنے اور ان کی پیروی کرنے کی کوشش کریں۔ہمیں اپنے حلقہ میں جو اثر ورسوخ حاصل ہوا سے ہم انسانیت کی کچی خدمت کرنے کا ذریعہ بنائیں۔ہم ہر شخص کے ساتھ احسان کا سلوک کریں اور مظلوموں اور بے کسوں کے ساتھ ایسے رنگ میں دوستی کا تعلق قائم کریں کہ وہ ہر مشکل وقت میں ہمیں اپنا سا غمخوار پائیں۔حضور نے فرمایا کہ آج ہمارے ملک میں سب سے پہلی ضرورت شرف انسانی کے قیام کی ہے۔دنیا