تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 145 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 145

تاریخ احمدیت۔جلد 25 145 سال 1969ء ختم ہو جاتا ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ایک اور وعدہ دیا گیا ہے جو قدرت ثانیہ کا ظہور یعنی خلافت حقہ کا قیام ہے۔جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور دوسرے مجددین میں فرق کرنا پڑتا ہے اسی طرح اس موعودہ قدرت ثانیہ کے ظہور یعنی خلیفہ وقت اور دوسرے اخیار وابرار میں بھی فرق کرنا ضروری ہے۔اسی روز کرنل ڈاکٹر عطاء اللہ صاحب سیکرٹری فضل عمر فاؤنڈیشن نے حضور کے اعزاز میں اپنی رہائش گاہ (18 جی گلبرگ) میں ایک دعوت عشائیہ دی۔جس میں نامور عالم ، چوٹی کے وکیل ،مشہور دانشور، ماہرین فن اور اعلیٰ کا روباری لوگ بھی شامل تھے۔حضور کی جذب و کیف میں ڈوبی ہوئی نہایت بصیرت افروز گفتگو مادی نعماء کے ساتھ ساتھ روحانی مائدہ کا کام بھی دے رہی تھی۔جناب یوسف سلیم شاہد صاحب ( انچارج شعبہ زود نویسی ربوہ ) ایم اے کے الفاظ میں حضور کے یہ کلمات کیا تھے بادصبا کے خوشگوار جھونکے تھے جن سے دل کی کلیاں کھل اُٹھیں اور ان میں شگفتگی اور بہار آ گئی۔کھانے سے فارغ ہونے کے بعد بھی حضور دیر تک ملک وملت کی فلاح و بہبود، عالم اسلام کے اتحاد و اتفاق ، اسلام کی عظمت وسطوت کے علاوہ کئی دیگر علمی و دینی موضوعات پر نہایت خیال افروز اور معلومات افزا گفتگو فرماتے رہے۔۱۲ اکتوبر ۱۹۶۹ء کو حضور نے مجلس عرفان میں جائزہ لیا کہ کتنے احباب کے پاس تفسیر سورۃ فاتحہ اور تفسیر صغیر ہے۔جائزہ کے بعد حضور نے فرمایا کہ جن کتابوں کا ہر احمدی کے پاس ہونا ضروری ہے ان میں تفسیر صغیر، تفسیر کبیر اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے وہ حوالے جنہیں میر داؤد احمد صاحب نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے نام سے کتابی صورت میں شائع کیا ہے شامل ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اگر انسان انہیں ہی پڑھتار ہے تو یہ بات یقینی ہے کہ اس کا علم بڑھ جائے گا اور جہاں تک ان اقتباسات کا تعلق ہے جو مختلف عناوین کے تحت جمع کر دیے گئے ہیں اگر ان سارے اقتباسات کو دیکھ لیا جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پر بہت حد تک عبور حاصل ہو سکتا ہے۔آپ سے کوئی بات کرے تو آپ فورا سے جواب دے سکتے ہیں۔اسی روز لجنہ اماءاللہ لاہور سے خطاب کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے خدا تعالیٰ کی حسین آواز نے آپ کو یوں مخاطب کیا ہے کہ اے میری بچیو آؤ اوران راہوں پر چل کر میری رضا کی جنتوں میں داخل ہو جاؤ۔آپ کو ایک طرف اللہ تعالیٰ نے