تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 146
تاریخ احمدیت۔جلد 25 146 سال 1969ء یہ حکم دیا ہے کہ آپ اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی جنتوں کو حاصل کریں۔اور دوسری طرف آپ کو خدا تعالیٰ نے یہ کہا ہے کہ اے میری بچی! میں جنت کی طرف آواز دیتا ہوں مگر تو اس طرف متوجہ نہیں ہوتی۔تیرے دل میں یہ خواہش تو پیدا ہوتی ہے کہ تیرے بچے دنیاوی جنتوں کے وارث بنیں۔سب سے بڑا ورثہ اور سب سے زیادہ قیمتی مال جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔وہ حضرت محمد طفی اللہ کا دین ہے۔وہ قرآن کریم کے جواہرات ہیں۔وہ اسلام کا حسن ہے۔تمام احمدی بہنوں کا فرض ہے کہ وہ قرآن کریم پر غور کرتی رہیں اور اس کی جملہ ہدایتوں پر عزم اور ہمت سے عمل کرتی رہیں۔جس طرح وہ دنیوی اموال کے متعلق یہ خواہش رکھتی ہیں کہ ورثہ میں ان کی اولا د کو بھی ملیں اسی طرح وہ ان روحانی نعماء کے متعلق بھی یہ خواہش رکھیں اور اسی کے مطابق اپنی اولاد کی تربیت کریں۔تا کہ ہماری اگلی نسل ہمارے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے اس طرح وارث ہوں جس طرح اس کے فضل پیہم اس کی نعمتوں کے وارث ہوئے ہیں۔۱۴ اکتوبر کو مجلس عرفان منعقد ہوئی جس میں آپ نے بہت سی نصائح فرما ئیں۔آپ نے فرمایا کہ میری عادت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی عاجزانہ راہوں پر چلنے کی تو فیق عطاء ہوئی ہے۔کئی دفعہ اس طرح ہوتا ہے کہ اگلے روز جمعہ ہوتا ہے لیکن میرے دماغ میں کوئی مضمون نہیں ہوتا چنانچہ کئی دفعہ سوچا کہ میں کھڑا ہوں گا عربی کے الفاظ پڑھوں گا اور یہ اعلان کر دوں گا کہ اس میں میری کوئی بے عزتی نہیں ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے کوئی مضمون نہیں سمجھایا۔اس لیے میں کوئی مضمون بیان نہیں کرتا۔لہذا نماز پڑھ لیتے ہیں لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کوئی مضمون نہ سکھایا ہو۔چنانچہ کئی بار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک چمک پیدا ہوتی ہے اور مضمون سمجھ میں آجاتا ہے۔اسلام کے اقتصادی نظام کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تفسیر کی روشنی میں آپ نے فرمایا کہ میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ اسلام کا اقتصادی نظام ضرور قائم ہو کر رہے گا انشاء اللہ۔پس اسلام نے ہمیں جو بشارتیں دی ہیں ان پر ہمیں پختہ یقین ہے۔اسلام نے بہر حال غالب آنا ہے اور کوئی بھی مخالف طاقت اسلام کی ترقی اور غلبہ کو نا کام نہیں بنا سکتی۔یہ خدا تعالیٰ کا فیصلہ ہے جو وقت پر پورا ہو کر رہے گا اس لیے ہمیں ہر وقت دعاؤں میں مشغول رہنا چاہیے اور غرور و تکبر سے بچتے رہنا چاہیے۔حضور ۱۵ ۱۷ کتوبر کو سوا بارہ بجے دوپہر بذریعہ موٹر کار ربوہ واپس تشریف لے آئے۔روانگی سے قبل حضور نے جماعت احمدیہ لاہور کے احباب کو جو اپنے آقا کو الوداع کہنے کی غرض سے آئے تھے 133