تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 144
تاریخ احمدیت۔جلد 25 144 سال 1969ء چنگیز خاں اور اس کے جانشین جن کا کوئی دین و مذہب نہ تھا۔آجکل کی مہذب دنیا کی انہیں ہوا تک نہیں لگی تھی مگر ان کی حکومت میں ان کے اپنے انداز کا جو قانون پایا جاتا تھا اس کی سختی سے پابندی کرائی جاتی تھی۔چنانچہ ان کی حکومت میں عورتیں سر پر سونے کے گھڑے اٹھائے کھلے بندوں پھرتی تھیں۔یہاں تک کہ سونے اور جواہرات کے چھکڑے باہر ہی پڑے رہتے تھے لیکن ان کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا۔لوگ امن و امان سے زندگی گزارتے تھے۔مسلمانوں کیلئے یہ لحہ فکر یہ ہے کہ ان کے پاس تو اتنی حسین اور پر حکمت تعلیم ہے۔وہ کیوں اس پر عمل نہیں کرتے ؟ حضور نے فرمایا کہ اگر ہمارے ملک میں حکومت اسلامی سزاؤں کو نافذ کر دے تو صرف دس بارہ چوروں کے ہاتھ کاٹنے ہی سے چوری چکاری کا مکمل خاتمہ ہوسکتا ہے۔حضور نے پیدائشی احمدیوں کو بالعموم اور ان کی نوجوان نسل کو بالخصوص یہ نصیحت فرمائی کہ انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر علی وجہ البصیرت ایمان رکھنا چاہیے اور ذہنی طور پر انہیں تسلی ہونی چاہیے کہ حضرت اقدس کی عطا فرمودہ تعلیم ، صداقت پر مشتمل اور حکمت سے پر ہے اور اگر ان کے دل میں کسی وقت کسی وجہ سے کوئی شبہ پیدا ہو تو انہیں اس کا جرات کے ساتھ اظہار کرنا چاہیے۔حضور نے احباب جماعت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غلبہ اسلام کی بشارتوں اور پیشگوئیوں سے لبریز کتب کو ہمیشہ پڑھنے اور پڑھانے کی ہدایت فرمائی۔یہ بابرکت مجلس علم و عرفان بالآخر دو دوستوں کی بیعت پر منتج ہوئی۔جن میں سے ایک دوست نے ایک خطیر رقم حضور کی خدمت میں پیش کی جسے حضور نے قبول فرمایا اور اسے جاپان مشن کی مد میں بھجوانے کا ارشاد فرمایا۔۱۱ اکتوبر کو حضور نے مجلس علم و عرفان کے دوران اس حقیقت کی نہایت لطیف پیرائے میں وضاحت فرمائی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں قیامت تک کے زمانے تک پھیلی ہوئی ہیں اور ان کا دائرہ تمام ملکوں پر حاوی ہے۔اس لئے یہ کہنا کہ آپ صرف اس صدی کے مجدد تھے واقعاتی لحاظ سے بھی صحیح نہیں ہے۔یہ صرف آپ کا وجود ہے جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لے کر پیشگوئیاں کیں۔اسی طرح امت مسلمہ کے کئی بزرگوں نے اس موعود کے متعلق اپنی کتابوں میں ذکر کیا۔یہاں تک کہ ان بشارتوں اور پیشگوئیوں سے آپ کے زمانہ بعثت کی تعیین بھی ہو جاتی ہے۔پس یہ ایک حقیقت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ موعود روحانی فرزند جس نے ایک عظیم انقلاب بپا کرنا تھا وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی ہیں۔آپ ہی کی بعثت پر ایک سلسلہ مجددین