تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 128
تاریخ احمدیت۔جلد 25 128 سال 1969ء عذرات لنگ کی بناء پر مسلم سربراہوں کی اس اہم ترین کا نفرنس میں شریک ہونے کی زحمت بھی گوارا نہ فرماسکے اور اب ایک بہیمت پرست مسلم کش غیر مسلم ملک سے سوشلسٹا نہ مظاہرہ رواداری کی رو میں بہ کر منفی قسم کی بیان بازی میں مصروف ہیں، کیا اُن سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اس سنگین مہم کو سر کر لیں گے اور کل کلاں کو اگر یہ تمام سہارے اوچھے ، ناکارہ اور ریت کی دیوار ثابت ہوئے تو کیا یہودِ نامسعود کے حوصلے کچھ اور نہیں بڑھ جائیں گے اور یہ کانفرنس نتائج کے اعتبار سے اس کے دل و دماغ سے پانچ چھ عرب ملکوں کی طرح باقی ہیں اکیس مسلم ملکوں کا رعب و دبدبہ بھی کم نہیں کر دے گا اور جو عرب ملک اپنی نام نہاد سوشلزم کے باعث آج بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کا نام لیتے ہوئے بھی انقباض محسوس کرتے ہیں ،صرف اس لئے کہ کہیں اُن سے ان کا اسلحہ دا تاروس ناراض نہ ہو جائے۔کیا اس کانفرنس کے بعد بھی وثوق کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر کبھی اسرائیل نے مسلمانوں کے ان دونوں عظیم و مقدس شہروں کو میلی نگاہ سے دیکھا تو اس وقت ان کی یہی سوشلزم اُن کے دینی ولولوں کے آڑے نہیں آئے گی۔اور ان سب تو جیہات اور تنقیحات کے بعد سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس جوش و خروش کے پس منظر و پیش منظر کا اپنی آنکھوں سے مظاہرہ کر لینے اور اسرائیل کے نشہ طاقت اور اس کے مکروہ عزائم کو خوب بھانپ جانے کے بعد کیا حساس اور حقیقی اسلام دوست مسلم ممالک پر یہ واجب نہیں ہو جاتا کہ وہ سب سے پہلے دشمن کے آئندہ مکروہ عزائم کا سد باب کرتے ہوئے فوری طور پر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے تحفظ کا کوئی مشترکہ منصوبہ بنائیں کیونکہ (جیسا کہ ایک شہدائے اسلام نے اسرئیل نامی ناسور کا منہ بنتے ہی یہ انتباہ کیا تھا ) کہ اب سوال زید یا بکر کی عزت کا نہیں رہا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا ہے۔اور معاملہ صرف فلسطین کے تحفظ کا نہیں۔بات مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے تحفظ کی فکر تک آ پہنچی ہے۔آخر میں لکھا:۔اگر موثر عملی قدم کے طور پر یہ کانفرنس اس فیصلہ پر بھی منتج ہوتی کہ رباط کا نفرنس کے تمام شرکاء ( ملک ) حفظ ماتقدم کے طور پر اپنی پندرہ پندرہ فیصد فوج دونوں متذکرہ بالا شعائر ( مکہ معظمہ و مدینہ منورہ) کے تحفظ کے لئے سعودی عرب بھیج دیں گے تو بیک وقت ہیں بائیس ڈویژن فوج کے عین سر پر آ بیٹھنے سے کم از کم دشمن کے آئندہ مکروہ جارحانہ عزائم کا رُخ تو مڑ جاتا۔125