تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 127
تاریخ احمدیت۔جلد 25 127 سال 1969ء اور مقدس مقامات کی آزادی کیلئے بھر پور کوشش کرنے کا تہیہ کر چکی ہے اور اس سلسلہ میں مسلم ممالک جو بھی کارروائی کریں گے پاکستان اس میں پوری طرح ساتھ دے گا۔نیز کہا اگر ہم متحد ہو جائیں تو ہم نہ صرف اپنے مسائل کو حل کر سکتے ہیں بلکہ دنیا کے ستر کروڑ سے زائد مسلمان ایک ایسی قوت بن سکتے ہیں جسے کوئی نظر انداز نہیں کر سکتا۔رائٹر کے مطابق کانفرنس نے متفقہ طور پر ایک اعلامیہ منظور کیا جس میں فلسطینی عوام کی حمایت کی گئی اور کہا گیا کہ انہیں فلسطین میں آباد ہونے کا حق ملنا چاہیے۔اعلامیہ میں بڑی طاقتوں سے اپیل کی گئی کہ وہ شرق وسطی میں قیام امن کی کوششیں تیز تر کر دیں اور مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی افواج کی واپسی کی ضمانت دیں اور اس کے ساتھ ہی چار روزہ کا نفرنس ختم ہوگئی۔جناب ثاقب زیروی صاحب مدیر اخبار لاہور نے رباط کانفرنس کے سلسلہ میں اپنے مؤقر جریدہ لاہور (۲۹ ستمبر تا ۱۳ اکتوبر ۱۹۶۹ء) میں متعدد شذرات سپر د اشاعت کئے جن میں رباط کانفرنس میں بھارتی وفد کی شرکت پر تنقید کی اور اُن عرب ملکوں کے رویہ پر جنہوں نے کانفرنس میں شرکت سے گریز کیا اس رائے کا اظہار کیا ”ہمارے ان بھائیوں کو ابھی تک یہودیوں کی مسلمان دشمنی کی وسعت و گہرائی ناپنے کی فرصت نہیں۔بالفاظ دیگر بیت المقدس کی تقدیس اور مسجد اقصیٰ کی حفاظت کا کام آج نہیں تو کل غیر عرب مسلمانوں کو ہی اپنے ہاتھ میں لینا ہوگا“۔نیز لکھا ”شرق وسطی کی جنگ کے بعد اور اس کانفرنس کے دوران امریکہ نے جو مخاصمانہ رول ادا کیا اس کے بعد کسی مسلم اکثریت یا اقلیت کا اس خوش فہمی میں مبتلا ہو جانا کہ مصیبت کے وقت (خواہ وہ راستی اور حق پر ہی کیوں نہ ہو ) امریکہ کبھی اس کے جائز حقوق اور مطالبات کی بھی اعانت کرے گا بدترین قسم کی حماقت سے کم نہیں۔آپ نے رباط کا نفرنس کے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ”جہاں تک کانفرنس کی قرار دادوں کا تعلق ہے وہ عبارت آرائی ، لفاظی اور مظاہرہ شدت جذبات کے لحاظ سے بڑی جاندار ہیں لیکن اس تصویر کے کچھ اور رُخ بھی ہیں مثلاً یہ کہ کیا ان لفظی قراردادوں سے بیت المقدس کی بے حرمتی اور مسجد اقصیٰ کی تذلیل کے علاوہ یہودیوں کے جو گھناؤنے ارادے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے بارہ میں ہیں ان کا مؤثر انسداد ہو سکے گا۔کیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (جس کی تکمیل اُن مغربی طاقتوں کے ہاتھ میں ہے جن کا رواں روآں یہودی سرمایہ کا شرمندہ احسان ہے ) اس کاج کو سنوارنے میں کوئی مدد دے سکے گی۔وہ عرب ملک جو دشمن کے جبڑوں میں ہونے کے باوجود محض