تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 121 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 121

تاریخ احمدیت۔جلد 25 121 سال 1969ء بس ایک جنگ اخبار پہنچتا ہے۔جسے پہلے صفحہ کی پہلی سطر سے آخری صفحے کی آخری سطر تک پڑھا جاتا ہے۔میں نے ان سے وعدہ کیا کہ میں اپنی ادارت میں شائع ہونے والا ادبی رسالہ نہایت با قاعدگی سے نذر کرتا رہوں گا۔چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور اب جب ان کا سامان ترکی سے واپس آئے گا تو اس رسالے کی بعض اشاعتیں اس سامان میں یقیناً موجود ہوں گی۔جنرل صاحب نے میرے مشاغل کے بارے میں پوچھا اور میں نے بتایا کہ گذر بسر اخباروں میں کالم نویسی پر ہوتی ہے تو انہوں نے لاہور لاہور ہے“ کا بطور خاص ذکر فرمایا اور اس کے بعد جب بات پاکستانی اخبارات کے مزاحیہ کالموں تک پہنچی تو انہوں نے ڈان میں شائع ہونے والے آرٹ بکولڈ“ کے کالموں کی اس لحاظ سے بہت تعریف کی کہ وہ کتنی روانی اور بے ساختگی کے ساتھ اپنے ملک کے صدر تک پر نہایت کڑی مگر نہایت شگفتہ تنقید کر جاتا ہے۔یہ چند واقعات میں نے محض اس لئے درج کئے ہیں کہ لیفٹینٹ جنرل اختر حسین ملک کی فوجی مہارت اور جرات پر تو بہت کچھ لکھا جائے گا مگر ان کی دلر با شخصیت کے یہ پہلو شاید عوام کی نظروں سے اوجھل رہیں۔ترکی میں ٹریفک کے ایک حادثے نے پاکستان سے اس کا ایک سچا اور کھرا ہیرو چھین لیا۔اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔ہماری قومی تاریخ ان کے کارناموں سے ہمیشہ ہمیشہ گونجتی رہے گی۔ر۔117 حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کا چاند کی تسخیر پر تبصرہ اس سال ۲۱ جولائی ۱۹۶۹ء کو امریکی خلائی جہاز اپالو گیارہ کی گاڑی خلا باز نیل آرمسٹرانگ (Neil Armstrong) اور خلا باز ایڈون ایلڈرن (Edwin Aldrin) کو لے کر چاند کی سطح پر اتر گئی اور اس طرح چاند پر انسان کے پہنچنے کے صدیوں پرانے خواب کی حیرت انگیز تعبیر منصہ شہود پر آگئی۔چاند کی تسخیر انسان کا بہت بڑا تاریخی کارنامہ تھا لیکن اس عظیم الشان کارنامہ کے نتیجہ میں مسلمانان عالم کے بعض طبقے زبر دست دہنی انتشار کا شکار ہو گئے چنانچہ تنزانیہ سے بذریعہ خط حضرت خلیفہ اسیح الثالث کو یہ اطلاع ملی کہ ایک احمدی مبلغ نے کسی استقبالیہ دعوت میں یہ باتیں سنیں کہ چاند پر جانا قرآن کریم کے خلاف ہے اور اس قسم کی بات کو قبول کر لینا موجب کفر ہے۔اسی طرح رنگون کے احمدی مبلغ نے بعض تعلیم یافتہ لوگوں حتی کہ بعض علماء کو یہ کہتے سنا کہ اگر چاند پر انسان پہنچ بھی چکا ہو پھر