تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 120 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 120

تاریخ احمدیت۔جلد 25 120 سال 1969ء عبرتناک شکست دی جس میں بھارت نے اپنی پوری فوجی مشین داؤ پر لگا دی تھی۔تو ان دونوں جری بھائیوں کے چرچے گلی گلی میں ہوئے۔مجھے بے اندازہ اشتیاق تھا کہ اُن سے ملوں۔اس کی ایک وجہ تو او پر درج کر چکا ہوں دوسرے میں نے یہ بھی سنا تھا کہ ان دونوں بھائیوں کو علم وادب سے بھی رغبت ہے اور جنرل عبد العلی ملک تو شعر بھی کہتے ہیں۔تیسرے اس لئے بھی کہ یہ بھائی میری ہی بولی بولتے تھے اور ایک لحاظ سے میرے پڑوسی تھے۔یوں بالواسطہ طور پر میں ان دونوں بھائیوں کے خاندان سے بھی متعارف تھا اور اس جستجو میں تھا کہ وہ لاہور آئیں تو اُن سے ملاقات کی سبیل پیدا ہو اور آخر مجھے اس میں کامیابی حاصل ہوئی۔لیفٹیننٹ جنرل اختر حسین ملک سینٹو ہیڈ کوارٹرز میں پاکستان کے فوجی نمائندے کے عہدے پر فائز تھے۔جب ان کے والد گرامی کا انتقال ہوا اور وہ پاکستان تشریف لائے میں اپنے دوست جناب عزیز ہمدانی کے ہمراہ ملک جعفر صاحب کے دولت کدہ پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ جنرل صاحب اپنے والد گرامی کے مزار پر فاتحہ پڑھنے گئے ہیں اور ان کی واپسی کا وقت قریب ہے۔شگفتہ مزاج فوجی۔آخر شام کے قریب وہ تشریف لے آئے۔وہ ایک سادہ سے سوٹ میں ملبوس تھے۔ان کے ہمراہ ان کے بڑے صاحبزادے کیپٹن سعید اختر ملک اور چند دوسرے عزیز اور دوست بھی تھے۔میرے ساتھ نہایت گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔مجھے چند ہی لمحوں کی گفتگو کے بعد معلوم ہوا کہ جنرل ملک نہایت شگفتہ مزاج انسان ہیں اور اپنی فوجی چال ڈھال اور غیر معمولی قد و قامت کے با وجود حسن ذوق ، نفاست اور تہذیب کے پیکر ہیں۔ہم سب کھانا کھانے کے لئے اٹھے تو لیفٹیننٹ جنرل اختر حسین ملک اپنے بڑے صاحبزادے کیپٹن سعید اختر ملک کے قریب سے گذرتے ہوئے رک گئے۔انہیں سر سے پاؤں تک دیکھا اور پوچھا ” کیوں میاں ! کہاں تک پہنچنے کے ارادے ہیں؟“ نکتہ یہ تھا کہ کیپٹن صاحب کا قد اپنے والد گرامی کے قد سے بھی نکلا جارہا تھا۔دلر با شخصیت۔کھانے کے بعد مجھ سے کلام سنانے کی فرمائش کی گئی جسے میں نے اعزاز سمجھا اور بہت سی نظمیں اور غزلیں سنائیں۔شاعر اپنے سامع کی طرف سے داد کے انداز اور موقع ومحل سے فوراً اندازہ لگا لیتا ہے کہ موصوف سخن فہم ہیں یا یونہی تکلف فرمارہے ہیں۔میں نے جنرل ملک کی نفاست ذوق کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا۔مگر یہ علم نہ تھا کہ وہ فن کے جمالیاتی پہلوؤں پر اتنے حاوی ہیں اور شعر کی انتہائی گہرائی تک جا پہنچتے ہیں۔مجھے ان کی شخصیت کے ہر پہلو سے متعارف ہو کر بے حد خوشی ہوئی۔بعد کی گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ وہاں ترکی میں اردو کی چیزیں بہت کم پڑھنے کو ملتی ہیں