تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 122 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 122

تاریخ احمدیت۔جلد 25 122 سال 1969ء بھی ہمیں اس پر یقین کرنے کی ضرورت نہیں۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۵ ستمبر ۱۹۶۹ء کو احمد یہ ہال کراچی میں خاص اسی موضوع پر ایک نہایت بصیرت افروز خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس میں قرآن عظیم کی متعدد آیات کی روشنی میں کمال شرح وبسط سے بتایا کہ:۔زمین اللہ تعالیٰ کی صفات کے مخصوص مجموعہ کا نام ہے یا آثار الصفات کے ایک مخصوص مجموعہ کا نام ہے جس کے ساتھ انسانی طاقتیں، قو تیں اور استعدادیں بندھی ہوئی ہیں اور جن کی پیدائش انسان کے فائدہ کے لئے ہے اور جن کے علاوہ کوئی اور چیز اس کے لئے فائدہ مند نہیں بن سکتی کیونکہ جو کچھ پیدا کیا گیا ہے وہ اسے وَاتُكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ (ابراہیم : ۳۵) کی رُو سے عطا کیا گیا اور ہر وہ چیز جس کی انسان کو ضرورت تھی وہ اس زمین میں پیدا کر دی گئی۔اگر خدا تعالیٰ کی صفات کے ان مخصوص جلووں سے ملتے جلتے جلوے اس عالم کے کسی اور حصہ میں بھی نظر آنے لگیں پھر تو وہ یہی زمین الارض“ ہوئی۔اس میں انسان زندہ رہ سکتا ہے لیکن اس الارض کو جن معنوں میں قرآن کریم نے استعمال کیا ہے ان معنوں کی رُو سے اس قسم کی زمین سے باہر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔فِيهَا تَحْيَوْنَ (الاعراف: ۲۶) کی صداقت اٹل ہے۔انسانی زندگی کا مدار صفات باری کے اسی زمینی جلووں کے ساتھ وابستہ ہے کیونکہ اس ارض کے باہر یہ زمینی جلوے مفقود ہیں۔اس لئے اس الارض سے باہر زندہ رہنا محال ہے۔ہم ایک لحظہ کیلئے یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ انسان کبھی ایسی دریافت یا اس قسم کی ایجاد کر لے گا جس سے قرآن کریم کی تعلیم یا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی جو تفسیر فرمائی ہے اس پر اعتراض کرنے کے قابل ہو جائے گا۔۔۔فِيْهَا تَحْيَونَ میں قرآن کریم نے یہ دعوی کیا ہے کہ انسانی زندگی اور بقاء اسی الارض تک محدود ہے۔یعنی آثار صفات باری کے مخصوص جلووں ہی میں وہ زندہ رہ سکتا ہے۔انسان اس الارض کے ان جلووں سے باہر زندہ نہیں رہ سکتا اور نہ زندہ رہنے کا تصور ہی کر سکتا ہے۔ہم چاند پر چند گھنٹے کے لئے اترے، نہ اپنے لباس سے باہر آنے کی جرات کی ، نہ اپنے کھانے کو چھوڑ کر کوئی اور کھانے کا خیال آیا، نہ وہاں کوئی ہوا تھی جس میں سانس لے سکتے۔پس جس