تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 115
تاریخ احمدیت۔جلد 25 115 سال 1969ء لیفٹیننٹ جنرل اختر حسین ملک صاحب کے برادر اصغر میجر جنرل عبدالعلی صاحب، میجر عبدالمجید ملک صاحب، مرحوم کے خسر چوہدری عبدالغفور صاحب آف مراڑہ ضلع سیالکوٹ ، مرحوم کی صاحبزادی سلمہ اختر صاحبہ، چاروں بیٹے کیپٹن سعید اختر ملک صاحب، کیپٹن سلیم اختر ملک صاحب، جمیل اختر ملک صاحب اور لطیف اختر ملک صاحب، مرحوم کی ہمشیرگان اور دیگر متعد دعزیز اور رشتہ دار شامل تھے۔پونے چار بجے بعد دو پہر دونوں تابوت گیسٹ ہاؤس سے اٹھائے گئے۔جبکہ اہل ربوہ کی کثیر تعداد کے علاوہ لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، سرگودھا، جھنگ، گوجرانوالہ، شیخو پورہ اور متعدد دیگر مقامات سے بھی ہزاروں کی تعداد میں احمدی اور غیر از جماعت اصحاب تشریف لا چکے تھے۔جنازہ کے آگے ایک فوجی دستہ تھا جس کے پیچھے مرحوم کے سوگوار بھائی، بیٹے اور دیگر اعلیٰ فوجی حکام جار ہے تھے اور پھر ہزاروں کی تعداد میں وہ احباب تھے جو ملک وملت کے اس مایہ ناز فرزند اور پاک و ہند کے چھمب جوڑیاں محاذ کے ہیرو کو آخری نذرانہ عقیدت پیش کرنے اور ان کے حق میں دعا کرنے کے لئے جوق در جوق جمع ہوئے تھے۔چار بجے امیر صاحب مقامی کی زیر ہدایت خالد احمدیت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے نماز جنازہ پڑھائی۔نماز جنازہ میں کم و بیش بیس ہزار افراد نے شرکت کی جس کے بعد جنازہ کا یہ سوگوار جلوس قبرستان کی طرف روانہ ہو گیا۔پانچ بجے شام قبرستان کے قطعہ شہداء میں تدفین مکمل ہونے پر مولانا صاحب نے اجتماعی دعا کرائی۔پھر پاکستان کے فوجی دستہ نے ملک وملت کے اس بہادر جرنیل کو سلامی دی جس کے بعد احمدیت اور پاکستان کا یہ نامور فرزند اور پاک و ہند جنگ میں بہادری، جرأت اور دلیری کے محیر العقول کارنامے دکھلانے والا یہ شہرہ آفاق قومی ہیرور بوہ کی مقدس سرزمین میں سپرد خاک کر دیا گیا۔پاکستانی پریس لیفٹیننٹ جنرل اختر حسین ملک اور ان کی اہلیہ کے حادثہ شہادت نے پاکستان کے ہر طبقہ میں ایک زلزلہ برپا کر دیا۔پاکستانی پریس نے اس موقع پر تفصیلی خبریں اور نوٹ سپر دا شاعت کئے جن میں سے بعض کا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے۔ا۔روزنامہ امروز لا ہور نے ۲۴ را گست ۱۹۶۹ء کو حسب ذیل نوٹ شائع کیا :۔