تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 116 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 116

تاریخ احمدیت۔جلد 25 116 سال 1969ء پاک فوج کے لیفٹیننٹ جنرل اختر حسین ملک گذشتہ روز ترکیہ میں ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔اس حادثے میں مرحوم کے علاوہ ان کی اہلیہ، انقرہ میں پاکستان کے کمرشل اتاشی مسٹر محمد اسلم کے دولڑ کے اور موٹر کار کا ترک ڈرائیور بھی ہلاک ہوئے۔جنرل اختر حسین ملک سینٹو کے ہیڈ کوارٹر (انقرہ) میں پاکستانی نمائندے کی حیثیت سے متعین تھے۔موصوف از میر کے میلے میں جس میں پاکستان کا پیولین بھی قائم کیا گیا تھا، شرکت کے لئے انقرہ سے بذریعہ کا راز میر جارہے تھے کہ راستے میں حادثہ پیش آ گیا۔لیفٹینٹ جنرل اختر حسین ملک ضلع کیمبل پور کے ایک ممتاز اور سر بر آوردہ فوجی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔انہوں نے کیمبل پور کے گورنمنٹ کالج میں تعلیم پائی اور پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔فارغ التحصیل ہونے کے بعد ۱۹۴۱ء میں انڈین ملٹری اکیڈمی ڈیرہ دون میں زیرتر بیت رہے اور وہاں سے کمیشن لے کر نکلے۔دوسری جنگ عالمگیر کے دوران انہوں نے برما کے محاذ پر جنگی خدمات انجام دیں۔آزادی کے وقت وہ جی ایچ کیو (انڈیا) میں متعین تھے۔پاکستان میں انہیں لیفٹینٹ کرنل کے رینک پر ترقی ملی اور ایک انفنٹری بٹالین کی کمان سونپی گئی۔۱۹۵۶ء میں آپ بریگیڈیر بنے۔اس زمانہ میں آپ سٹاف کالج کوئٹہ میں ڈپٹی کمانڈنٹ کے عہدہ پر مامور تھے بعد میں آپ انفنٹری سکول کوئٹہ کے کمانڈنٹ بنا دیئے گئے۔۱۹۵۹ء میں آپ نے ایک انفنٹری بریگیڈ کی کمان سنبھالی اور پھر بحیثیت ڈائریکٹر آف انفنٹری جنرل ہیڈ کوارٹر بھی رہے۔۱۹۶۵ء میں کشمیر میں خطِ متارکہ جنگ کے پار بھارت کی مسلسل جارحانہ کاروائیوں کے جواب میں لیفٹینٹ جنرل اختر حسین ملک کو ( جواس وقت میجر جنرل کے عہدہ پر فائز تھے۔اور ایک پیدل ڈویژن کے آفیسر کمانڈنگ تھے ) بھمبر کے علاقے میں حملہ کرنے کا فرض سونپا گیا۔چھمب میں بھارتی مورچے غیر معمولی مضبوط تھے اور وہاں ایک طاقتور فوج متعین تھی۔جنرل اختر حسین ملک نے ان مورچوں پر حملہ کیا اور بھارتی گیریژن کو اس حقیقت کے باوجود کہ ان کے پاس جو فوج تھی وہ عملاً ایسی کاروائی کیلئے ناکافی سمجھی جاتی ہے بالکل نیست و نابود کر دیا۔بھارتی قلعہ بندیوں کو تباہ کن ضربیں لگانے اور انہیں برباد کرنے کی کارروائی جنرل آفیسر کمانڈنگ کے بہادرانہ منصوبے بنانے اور کارروائی میں غیر معمولی قیادت کی رہین منت تھی۔اس مشکل کام کو دلیرانہ طور پر اور ذاتی جرات کے ساتھ انجام دیا۔انہیں اس پر بہادری