تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 104 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 104

تاریخ احمدیت۔جلد 25 104 سال 1969ء صاحب، صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب اور چوہدری ظہور احمد صاحب ناظر دیوان بھی کراچی تشریف لے گئے۔حضور نے صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کو امیر مقامی اور مولانا قاضی محمد نذیر صاحب فاضل لائلپوری کو امام الصلوۃ مقرر فرمایا۔کراچی میں حضور کا قیام الامتیاز P۔E۔C۔H۔S43/10-C میں تھا۔حضور ۶اراگست کو بذریعہ موٹر کا ر لا ہور تشریف لے گئے اور اسی روز بذریعہ ہوائی جہاز کراچی پہنچ گئے۔اور ایک ماہ تک کراچی کی سرزمین کو انوار قرآنی سے منور کرنے اور تشنہ روحوں کو آب بقا سے سیراب کرنے اور اپنی زیارت سے مشرف کرنے کے بعد ۵ استمبر کو مرکز احمدیت ربوہ میں مراجعت فرما ہوئے۔جماعت احمدیہ کراچی نے اپنے محبوب و مقدس امام کے وجود مبارک سے اپنی گذشتہ روایات سے بڑھ کر فیض حاصل کیا خصوصاً جماعت کراچی کی سب ذیلی تنظیموں کو خاص تقاریب میں خلیفہ راشد کی زبان مبارک سے پُر معارف اور بابرکت ارشاد سننے کی سعادت نصیب ہوئی۔۱۷ اگست کو حضور نے گیارہ بجے سے ڈیڑھ بجے تک علی الترتیب مجلس عاملہ جماعت احمدیہ کراچی، مجلس عاملہ انصار اللہ اور مجلس عاملہ خدام الاحمدیہ کو الگ الگ طور پر اجتماعی ملاقات کا موقع عطا فرمایا۔جماعت کراچی کی مجلس عاملہ کو ہدایت فرمائی کہ انہیں جماعتی امور کی انجام دہی کے لئے بڑی نرمی اور حسن سلوک سے کام لینا چاہیے۔اصلاح احوال کے مختلف اور مناسب طریقوں میں سے دوستانہ تعلقات کو اولیت دینی چاہیے۔قرآن کریم کا سیکھنا اور سکھانا جماعتی تربیت کا ایک بہت بڑا اور مؤثر ذریعہ ہے اس لئے قرآن پاک کے درس و تدریس کا خاطر خواہ انتظام ضروری ہے کیونکہ قرآن کریم ہمارا چاند ہے اس میں اترنے والا خاک سمیٹنے کی بجائے قرآنی انوار سے منور اور ابدی صداقتوں سے بہرہ ور ہوتا ہے۔نیز فرمایا ہمارا ملک اس وقت بڑے نازک دور سے گذر رہا ہے اور خطرہ ہے کہ وطن عزیز کا غریب اور کمزور حصہ اس کی لپیٹ میں نہ آجائے۔اس لئے وقت کا سب سے بڑا تقاضا اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو اس سے ہرگز متاثر اور مغلوب نہ ہونے دیں انہیں یہ ذہن نشین کرا دیں کہ اقتصادی مسائل کا بہترین اور حقیقی حل صرف اسلام کا اقتصادی نظام ہی پیش کرتا ہے۔لیکن ہماری کوششیں اسی صورت میں بار آور ہو سکتی ہیں جب کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی کچی اتباع کے نتیجہ میں ہمارے اندر آپ کے حسن اخلاق کی جھلک نمایاں ہو اور آپ کے حسن سلوک کا پر تو صاف نظر آنے لگے۔-