تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 105 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 105

تاریخ احمدیت۔جلد 25 105 سال 1969ء حضور نے مجلس عاملہ انصار اللہ کو تربیت کا ٹھوس پروگرام مرتب کرنے اور پھر اس کو بروئے کار لانے کے لئے صحیح طریق کار اختیار کرنے کا ارشاد فرمایا۔مجلس خدام الاحمدیہ کی مجلس عاملہ پر حضور نے یہ حقیقت واضح فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی حکیمانہ تعلیم دی ہے اور ایسا اعلیٰ و ارفع طریق کار پیش کیا ہے جس کے نتیجہ میں مزدور کو ہڑتال کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔دنیا سے غربت کو مٹانے کے لئے قرآن کریم نے سائل اور محروم کا جو تصور پیش کیا ہے۔حضور نے اس کی پر حکمت تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ دراصل یہ ساری خرابی اور بدامنی اس لئے پیدا ہو رہی ہے کہ غریب کو اس کے وہ حقوق نہیں مل رہے جو اسلام نے قائم کئے۔دنیا اس وقت حیرانی و پریشانی میں سرگرداں ہے کیونکہ اسے اپنے اقتصادی مسائل کے صحیح حل کا علم نہیں اس لئے تاریکیوں میں بھٹکنے والی روحوں کے لئے آپ کو مشعل راہ بنا چاہیئے۔دکھ درد کی ماری ہوئی انسانیت کا مداوا آپ کو بہترین اخلاق کی صورت میں پیش کرنا چاہیے۔۱۸ اگست کو حضور نے بیرونی ممالک کے بعض نئے احمدیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان میں قرآن کریم کو سیکھنے اور سکھانے کا انتہائی قابل قدر جذبہ پایا جاتا ہے۔قرآن پاک سے ان کا پیار اور لگاؤ اور قرآنی علوم سے بہرہ ور ہونے کا ذوق و شوق اپنے اندر ایک مثالی رنگ رکھتا ہے۔پاکستانی جماعتوں بالخصوص نو جوانوں کو قرآن مجید سیکھنے اور اس کے علوم پر حتی المقدور عبور حاصل کرنے کے لئے اپنی طرف سے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھنی چاہیے۔۱۹ را گست کو حضور نے نہایت لطیف پیرایہ میں تو کل علی اللہ کے مضمون پر روشنی ڈالی اور قرآنی آیات سے اس کی بنیادی اہمیت واضح فرمانے کے بعد احباب جماعت کو توجہ دلائی کہ وہ تو حید خالص پر قائم رہتے ہوئے شرک کے ہر پہلو سے بچیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہمارا واحد سہارا اور حقیقی پناہ گاہ ہے۔۲۰ راگست کو بہت سے مقامی احباب کے علاوہ لاہور ، حیدر آباد اور کرونڈی (سندھ) کے دوستوں کو حضور سے ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی۔ازاں بعد حضور نے سیرت کونسل کراچی کے ارکان کو ملاقات کا شرف بخشا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مقدسہ کے لٹریچر کی نمائش کے مقدس کام کو مزید عمدہ اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے ضروری ہدایات دیں۔مغرب وعشاء کے بعد حضور حسب دستور مجلس عرفان میں رونق افروز ہوئے اور خاندانی منصوبہ بندی کے سلسلہ میں قرآنی احکام پر بڑے روح پرورانداز میں روشنی ڈالنے کے بعد تربیت اولاد کی اہمیت بیان فرمائی اور اس بات پر خاص