تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 93 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 93

تاریخ احمدیت۔جلد 25 93 سال 1969ء حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا سولہویں تربیتی کلاس سے افتتاحی خطاب را مسال مجلس خدام الاحمدیہ کی تربیتی کلاس 1 جولائی سے ۲۵ جولائی کو منعقد ہوئی۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اس سال مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ سے فرمایا کہ اگر ان کی سولہویں تربیتی کلاس میں سومجالس کے نمائندے شامل نہ ہوئے تو اس کا میں افتتاح نہیں کروں گا۔اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ نے دعاؤں کے ساتھ پوری جدو جہد کی جس کا یہ خوشکن نتیجہ ہوا کہ اس کلاس میں شرکت کے لئے ا جولائی ۱۹۶۹ء کو ۱۳۲/ مجالس کے نمائندے پہنچ گئے جو پچھلے سال سے قریباً دگنی تعداد تھی۔اضافہ کی یہی نسبت شامل ہونے والے خدام کی تعداد کی تھی۔حضور نے اسی تاریخ کو بعد نماز مغرب مسجد مبارک میں اس کلاس کا افتتاح کرتے ہوئے پوری جماعت کو نہایت قیمتی نصائح سے نوازا اور اس حقیقت کی طرف نہایت دلکش اور روح پرور انداز میں روشنی ڈالی کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا ہی فضل فرمایا کہ اس نے ہمیں اپنا خادم بنالیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے خادم ہونے کی حیثیت سے ہم صرف انسان ہی کے خادم نہیں، ہم ان کے بھی خادم ہیں جو انسان نہیں بلکہ جو جاندار بھی نہیں۔خدا تعالیٰ نے ساری زمین اور اس کی ساری اشیاء آسمان اور اس کے سارے ستارے انسان کے لئے مسخر کئے ہیں۔اور اس نے اپنے خادموں اور اپنی طرف منسوب ہونے والوں کو خدمت کے جو احکام دئے ان میں مسلم اور غیر مسلم میں کوئی امتیاز نہیں برتا۔چنانچہ فرمایا کسی پر بہتان نہیں تراشنا، کسی سے سود نہیں لینا۔نہ ظلم کرنا ہے اور کوئی بھی بھوکا ہوا سے کھانا کھلانا ہے خواہ مسلم ہو یا غیر مسلم ، لا مذہب ہو یا بت پرست۔تم نے کسی کو بھی دکھ نہیں پہنچانا۔اگر ہم خدمت کے تقاضوں کو پورا کریں تو جو اجرت ، انعام، فضل اور محبت کا سلوک اللہ تعالیٰ ہم سے کرے گا وہ اتنا بڑا اجر، اتنا بڑا انعام ہے کہ اگر ہم اس کو پالیں تو اس دنیا کی ساری نعمتوں کو ہم نے پالیا کیونکہ ساری مخلوق مل کر بھی عزت کی اس نگاہ کا مقابلہ نہیں کر سکتی جوانسان اپنے رب کی نگاہ میں پاتا ہے۔حضور نے اس روح پرور خطاب کے آخر میں ارشاد فرمایا:۔اللہ تعالیٰ کا یہ بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنا خادم ( اگر ہم واقعی اس کی نگاہ میں خادم بن جائیں تو اس سے بڑا احسان اور کیا ہوسکتا ہے ) بنا کر اپنی ہر مخلوق کی خدمت پر لگا دیا۔اور اس کے مقابلہ میں ہم سے اس جزاء کا ، ان انعامات کا وعدہ کیا